گلدستہ

by Other Authors

Page 76 of 127

گلدستہ — Page 76

64 نہ کر سکتا تھا۔جب مسلمانوں کو جنگیں لڑنی پڑیں تو حضرت علی نے بہت بہادری کے کارنامے دکھائے۔غزوہ بدر ، غزوہ احد میں خوب آگے بڑھ بڑھ کر کافروں کو مارا۔جنگ خندق میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اپنی تلوار دی۔آپ نے بڑے بڑے دشمنوں کو مار ڈالا اور اسلام کے جھنڈے کی حفاظت کی بہووں کا خیبر پر بڑا مضبوط قلعہ تھا۔قلعہ کہتے ہیں بڑی بڑی چھوڑی چوڑی دیواروں والے شہر کو۔یہودی مسلمانوں کو تنگ کرتے اور قلعہ میں گھس کر بیٹھ جاتے۔رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم نے ایک دن کہا کہ آج میں ایسے بہادر مسلمان کو جھنڈا دوں کا جو خدا اور اس کے رسول سے پیار کرتا ہے۔اگلی صبح یہ جھنڈا حضرت علی کو طلا۔حضرت علی نے خدا کی دی ہوئی طاقت سے اسی دن خیبر کو فتح کرلیا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اتنے خوش ہوئے کہ حضرت علی کو اللہ کا شیر کہنے لگے۔ہجرت کے آٹھ سال بعد جب مکہ فتح ہوا تو خانہ کعبہ میں رکھے ہوئے سارے بہت چھڑی مارکمہ گرا دیئے گئے۔ایک بت بہت اونچا تھا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو کندھوں پر اٹھایا اور وہ بہت حضرت علی نے گرا دیا۔جنگ تبوک کے دوران ایک الیسا واقعہ ہوا جسے ہمیں یاد رکھنا چاہیے۔ہوا یوں کہ ایک دفعہ جنگ کے لئے ملک شام جاتا تھا۔کچھ دن تو لگ ہی جاتے۔آپ نے حضرت علی کو کہا کہ جب میں چلا جاؤں تو تم سردار ہو گے۔حضرت علی کا دل تو آقا جی کے ساتھ جانے کو کرتا تھا اُداس ہو گئے۔آقاجی نے فرمایا۔علی تم غم نہ کرو حضرت موسی سفر پر جاتے ہونے اپنے بھائی ہارون کو اپنی جگہ سردار بنا گئے تھے میں تمہیں سردار عینی امیر نا کہ جارہا ہوں۔میر ہے بعد تم سب کام میری طرح کر نا فرقی عرف یہ ہوگا کہ تم میرے بعد نبی نہیں ہو گئے۔