گلدستہ

by Other Authors

Page 74 of 127

گلدستہ — Page 74

۷۴ کے یہ ارادے تھے اور دوسری طرف آپ کی سچائی اور امانت و دیانت پر اتنا بھروسہ تھا کہ اپنے مال بھی آپ کے پاس رکھواتے ہوئے تھے۔اس زمانے میں بینک نہیں ہوتے تھے لوگ جو کچھ کماتے کسی ایسے شخص کے پاس رکھ دیتے جو سنبھال کمہ رکھتا پیار سے آقا کے پاس بھی مکہ والوں کا کافی سامان اور روپیہ تھا۔باہر کا فر آپ کے قتل کے طریقے سوچ رہے تھے۔اندر پیارے آقا اور حضرت علی باتیں کر رہے تھے۔آقا جی نے حضرت علییؓ سے فرمایا۔دیکھو ہے تو بہت خطرے کی بات مگر مجبوری یہ ہے کہ میرے پاس بہت سے لوگوں کی امانتیں ہیں اگر ہم دونوں چلے گئے تو مکہ والے کہیں گے کہ ہمارا سامان لے کہ بھاگ گئے اور میں نہیں چاہتا کہ ان کا مال ضائع ہو تم ایسا کرو کہ میرے بستر پر سو جاؤ میری طرح جیسے میں کپڑا اوڑھ کر سوتا ہوں۔دشمن جھانک کر دیکھیں گے کہ بستر پر میں ہوں تو مطمئن رہیں گے۔کہ ابھی ہم اسے قتل کر دیں گے۔اتنے میں حضرت ابو بکر کے ساتھ دور نکل جاؤں گا صبح جب دشمنوں کو علم ہو گا کہ میرے بستر پر تم ہو تو تمہیں کچھ نہیں کہیں گے کیونکہ انہیں تو مجھ سے دشمنی ہے جب میں ہاتھ سے نکل گیا تو مارنے کا ارادہ ختم کر دیں گے۔حضرت علی نے پیارے آقا کی یہ بات مان لی۔کتنی بہادری کی بات تھی یہ علم تھا کہ دشمن تلواریں لے کر مارنے کے لئے کھڑے ہیں مگر آقا کی محبت اور نخی کہنا ماننے کی عادت تھی کہ ڈرے بھی نہیں اور ساری رات اس لیستر پر سوئے رہے جس پر روزانہ آقا جی سوتے تھے مگر اس رات کے بعد آقا جی مکہ سے مدینہ چلے گئے۔اور وہ بستر خالی ہو گیا بھیج ہوئی تو دشمن قتل کرنے کے لئے اندر گھس آئے۔چادر اُٹھا کہ دیکھا تو وہ حضرت علی تھے۔بہت غصے میں آئے اور علی کو توب مارا مارتے جاتے اور پوچھتے جاتے کہ بتاؤ محمد کہاں گئے ہیں۔مگر آپ نے زبان نہ کھولی۔ایک لفظ نہ کہا اور سب کی امانتیں واپس کر کے مدینہ روانہ ہو گئے۔مدینہ پہنچے تو