گلدستہ — Page 73
سامنے آپ نے خدا کو ایک ماننے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا رسول ماننے کا اعلان کر دیا تو سب نے بڑا تھیلا کہا مگر آپ کے ابو حضرت ابو طالب نے کہا کہ تم ضرور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دو مجھے پتہ ہے کہ وہ بہت اچھی باتیں سکھاتا ہے۔۔۔۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو خدا کا پیغام دینے کے لئے بہت محنت کرتے جہاں کچھ لوگ جمع ہوتے آپ وہاں چلے جاتے اور انہیں دین کی باتیں بناتے حج کے موقعہ پر جمع ہونے والوں کو اسلام کی باتیں بتاتے کچھ لوگ مان لیتے کچھ نہ مانتے مگر اونٹنی کے بچے کی طرح ساتھ ساتھ پھرنے والے بچے حضرت علی نے یہ سب باتیں اتنی دفعہ سن لیں کہ پکی یاد ہو گئیں کچھ لوگ جو دشمن ہو گئے تھے سخت تنگ کرتے ، مذاق کرتے ، گالیاں دیتے آپ پر گندی چترس پھینکتے کبھی پتھر مارتے یہ سب حضرت علیؓ نے دیکھا اور سُنا اور پھر جو لوگ آکر آپ کو اپنی تکلیفیں سناتے وہ سارا حال بھی حضرت علی سننے آپ کا دل کرتا کہ اتنے بہادر اور مضبوط ہو جائیں کہ کوئی کسی مسلمان کو نہ ستا سکے۔سب کا مقابلہ کر سکیں ایک دو سال نہیں تیرہ سال تک یہ سب کچھ ہوتا رہا پھر کافروں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کا پروگرام بنایا۔آقاجی نے کچھ لوگوں کو مدینہ جانے کی اجازت دے دی تھی۔خود انتظار کر رہے تھے کہ خدا تعالیٰ کہیں تو جائیں پھر ایک رات اللہ تعالی نے آپ کو مکہ چھوڑ کر مدینہ جانے کا حکم دیا۔الہ تعالی توسب کچھ جانتے ہیں نا ! ان کو پتہ تھا کہ آج رات مکہ کے کافروں نے پروگرام بنایا ہوا ہے پیارے آقا کے مکان کے گرد گھیرا ڈال لیں گے اور جب آپ صبح کی نماز پڑھانے کے لئے نکلیں یا اس سے بھی پہلے آپ کو جان سے مار دیں گے۔ایک طرف تو دشمنوں