گلدستہ — Page 26
یں راہنمائی کرتی تھی اونٹنیاں لے کر آگیا۔عبدالنڈ بن ابوبکر تمام خبریں لائے۔حضرت اسما کھانا لے آئیں اور غلام حضرت عامر بن مغیرہ کا بھی خدمت کی غرض سے پہنچ گئے۔یوں یہ مقدس قافلہ مشرب کے اصل راستے سے ہٹ کرہ ردانہ ہوا۔آپ نے حضرت ابو بکر صدیق کو اونٹنی کی قیمت ادا کی پھر سوار ہوئے۔جب آخری نظر لگہ پر ڈالی تو آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔وادی کو مخاطب کر کے فرمایا۔تو مجھے دنیا میں سب سے زیادہ عزیز اور پیاری ہے۔لین تیرے لوگ مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے ؟ سفر کے دوران سراقہ بن مالک نلو سرخ اونٹوں کے انعام کی لالچ میں بار بار گرنے کے باوجود آگے بڑھتا رہا۔قریب آیا تو اس کے گھوڑے کی ٹانگیں ریت ہیں دھنس گئیں اور وہ منہ کے بل گر گیا اس پر اس کو خوف محسوس ہوا۔اُس نے آواز دی کہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔دکھ نہیں دوں گا۔آپ نے اجازت دی وہ آیا اور سارا ماجرا سنا یا بولا محمد کاستارا بلندی پر ہے یہ ضرور بڑے آدمی بنیں گے۔مجھے امن کی تحریر دی جائے۔حضرت عامر بن مغیرہ نے آپ کے ارشاد پر چھڑے پر لکھ کر دیا۔ساتھ ہی آپ نے فرمایا یہ سراقہ اس دن تیرا کیا حال ہوگا ، جب کسری کے کنگن تیرے ہاتھ میں ہوں گے۔بچہ۔یہ سفر کتنے دن جاری رہا۔ماں۔آٹھ روز تک بالاخره نبوی ۱۲ ربیع الاول کو پیر کے دن قبا کے مقام پر دوپہر کے وقت پہنچے۔یثرب آپ کی ہجرت کے بعد مدینہ الرسول کہلانے لگا۔پھر صرف مدینہ مشہور ہو گیا۔