گلدستہ — Page 22
نے یہ خبر دی ہے حضرت ابو طالب کے کہنے پر دیکھا گیا تو ایسے ہی تھا۔معاہدہ ختم ہو چکا تھا۔یوں یہ ظلم ختم ہوا۔لیکن مسل تکلیفوں کی وجہ سے اسی سال یعنی۔انبوی میں آپ کی چاہنے والی بیوی حضرت خدیجہ اور محبت و شفقت کرنے والے سر پرست چھا ابوطالب اللہ کو پیارے ہو گئے اسی وجہ سے یہ عام الحزن لینی غم کا سال کہلاتا ہے۔بچہ۔اب تو پیارے آقا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے رہ گئے ہوں گے کیا باہر آ کر تبلیغ میں اضافہ ہوا ؟ مال۔آپ نے مکہ سے باہر کے علاقوں میں تیزی سے تبلیغ شروع کر دی۔آپ حضرت زید بن حارث کے ساتھ طائف کی وادی میں گئے۔ان کے سرارون سے ملے لیکن یہ بھی یہ نصیب ہی نکلے۔انہوں نے تو حد کر دی۔پہلے تو آپ کو لبستی سے نکالا پھر آوارہ لڑکے پیچھے لگا دیئے جنہوں نے پتھر بر سایر ساکہ آپ کا مقدس وجود لہو لہان کر دیا۔آخر آپ نے طائف سے تین میل دور عتبہ بن ربیعہ کے باغ میں پناہ لی۔آپ ایک ندی کے کنارے اپنے خون آلود پاؤں دھو رہے تھے کہ وہیں پر پہاڑوں کا فرشتہ نازل ہوا اور کہا آپ فرمائیں تو ان دونوں پہاڑوں کو آپس میں ٹکرا کر ساری قوم کو تباہ کر دیں مگر آپ نے منع فرمایا۔اور فرمایا کہ میں اسی دادی سے اسلام کے سورج کو طلوع ہوتے دیکھتا ہوں۔بچہ۔پھر کیا ہوا ؟ ماں۔آپ مکہ کے قرب وجوار کے علاقوں میں چلے جاتے اور میلوں وغیرہ میں گھوم پھر کر تبلیغ کرتے۔اگر کوئی مسافر یکہ آتا تو انہیں بھی اسلام کا پیغام دیتے۔ان ہی دنوں میں قبیلہ دوس کے سردار کو تبلیغ کی اور وہ مسلمان