گلدستہ

by Other Authors

Page 96 of 127

گلدستہ — Page 96

94 اگر لفظ خاتم کا مطلب صرف آخری تھا۔تو پھر کسی بنی کے آنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی اور اسی طرح کسی کے ہجرت کرنے کی بھی گنجائش نہیں رہتی۔اب جن معنوں میں کسی کی بات کو آخری مسجد نبوی کو آخری لیں گے۔اسی طرح مقام نبوت کو آخری لیں گے کیونکہ جہاں ہزاروں مساجد تعمیر ہوئی ہیں وہاں سینکڑوں لوگوں نے ہجرت بھی کی ہے اور سب لوگ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں۔بچہ نبی تو ایک لاکھ چوبیس ہزار آئے۔اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ اس لفظ کا مطلب آخری ہرگز نہیں۔ماں یہی آپ کو سمجھانا ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لفظ ایک اور جگہ استعمال فرمایا۔حضرت علی کو مخاطب کر کے فرمایا۔میں خاتم الانبیا ہوں اور تم خاتم الاولیا ء ہو۔لفظ خاتم COMMON FACTER ہے مشترک ہے۔اگر اس کا مطلب آخری لیں تو یہ ماننا پڑے گا کہ حضرت علی بھی آخری ولی تھے۔اب دنیا میں کوئی ولی نہیں آئے گا۔دنیا کسی ولی کا منہ آئندہ نہ دیکھ سکے گی۔ایسا نہیں ہوا بے شمار ولی آئے۔اس کا مطلب ہے کہ لفظ خاتم کو آنحضور صلی اللہ علیہ دستم نے آخری کے منوں میں استعمال نہیں فرما یا بہترین کے معنوں میں استعمال فرمایا ہے۔بچہ بر خاتم بہترین کے معنوں میں کہیں اور بھی استعمال ہوا ہے ؟ مان در عام استعمال ہوتا ہے۔بہترین شاعر کو خاتم الشعراء کہتے ہیں۔بہترین طبیب کو خاتم الاطباء کہتے ہیں۔ہر جگہ بہترین کے معنوں میں آتا ہے۔بچہ بہ میں سمجھ گیا آپ بہترین نبی ہیں نہ کے نبیوں کو ختم کرنے والے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔