گلدستہ — Page 86
14 فلاحی امور سے تعلق رکھتا ہے۔اس سلسلے میں ڈسپنسریاں بھی قائم کی جاتی ہیں۔تعلیم کے انتظام کئے جاتے ہیں۔چھوٹے پیمانے پر معلمین جو بہت زیادہ علم تو نہیں رکھتے لیکن وقف کا جذبہ رکھتے ہیں۔خدمت دین کی روح رکھتے ہیں وہ دیہات میں پھیل جاتے ہیں اور جماعتوں کی اخلاقی حالتوں پر نظر رکھتے ہیں اُن کی روحانی حالتوں پر نظر رکھتے ہیں اُن کے روز مرہ کے شریعیت کی پابندی کے امور پر نظر رکھتے ہیں اور جہاں تک اُن کا بس چلتا ہے وہ اُن کو ہر پہلو سے آگے بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔اسی طرح مجلس انصار اللہ ہے جو پالیس سال سے لے کہ آخری عمر تک یعنی آخری سانس تک پھیلے ہوئے زمانے سے تعلق رکھنے والے احمدیوں پرمشتمل ہے اور اس کے پھر بہت سے شعبے ہیں اور اسی طرح مجلس خدام الاحمدیہ ہے جو پندرہ سال سے لے کر چالیس سال تک کے زمانے میں پھیلے ہوئے احمدی نوجوانوں سے تعلق رکھتی ہے اور اس کے بھی آگے بہت سے شعبے ہیں اور پھر محلیس اطفال الاحمدیہ ہے جو سات سال سے لے کر پندرہ سال تک کی عمر کے بچوں سے تعلق رکھتی ہے اور اُس کے بھی بہت سے شعبے ہیں اور پھر لجنہ اماءاللہ ہے جو پندرہ سال سے اوپر خواتین سے تعلق رکھتی ہے اور پھر محلیس ناصرات الاحمدیہ ہے جو سات سال سے پندرہ سال تک کی عمر کی بچیوں سے تعلق رکھتی ہے اور یہ سب مختلف شعبوں میں بٹی ہوئی انجمنیں ہیں اور یہ سارا نظام تمام دنیا میں جہاں جہاں جماعت احمدیہ قائم ہے اس کی ہر شاخ میں منعکس ہوتا ہوا دکھائی دے گا۔ا خطاب حضرت خلیفہ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ۱۲ اگست (۱۹۸۹) نوٹ :ر اب جماعت 14 ممالک میں موجود ہے۔الحمد للہ (۱۹۹۷ء) اور تعداد 10 ملین سے زیادہ ہو چکی ہے۔