گلدستہ

by Other Authors

Page 72 of 127

گلدستہ — Page 72

۷۲ بڑھ کر پیار سے پالا تھا۔اس طرح آپ اپنے چا کے کچھ کام آنا چاہتے تھے۔پائے آقا کے گھر میں پیارے سے بچے کے آنے سے رونق ہو گئی۔حضرت خدیجہ بھی بہت پیار کرتیں اچھی اچھی باتیں سکھانے ہیں دونوں کو بہت مزا آتا پھر ان کو لکھنا پڑھنا بھی سکھایا۔علی بھی پیارے آقا سے بہت پیار کرتے اور اگرچہ اہمی بچے تھے مگر پیارے آقا کی اچھی عادتوں نیکی کی باتوں اور سب کے ساتھ اچھے سلوک کو اپنی آنکھوں سے دیکھا کرتے آپ کا پیار اس حد تک تھا کہ خود حضرت علی کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے یوں رہتا تھا جیسے اونٹنی کا بچہ اونٹنی کے پیچھے رہتا ہے۔جب پیارے آقا کو اللہ تعالیٰ نے اب سلام سکھانے کا حکم دیا تو سب سے پہلے آپ کو سچا سمجھنے والے بچے حضرت علی ہی تھے۔پورا واقعہ سنو گے تو بڑا لطف آئے گا ہوا یوں کہ اللہ می نے پیارے آقا سے کہا کہ اپنے رشتہ داروں کو بتاؤ کہ اللہ کو نہ ماننے والوں کو سزا ملتی ہے۔آقا جی نے اپنے رشتہ داروں کو کھانے کی دعوت دی اور جب سب کھانا کھا چکے تو آپ نے بڑے پیار سے سب کو خدا کا پیغام سنایا اور یہ بھی بتایا کہ میں تو اب اس کام کو کرتا ہی رہوں گا۔آپ میں سے کوئی ہے جو میری اس کام میں مدد کر ہے۔یہ سن کر مکہ کے بڑے لوگ تو سوچ میں پڑ گئے مگر ایک طرف سے ایک بچے نے کھڑے ہو کر کہا۔میں عمر میں بہت چھوٹا ہوں۔میری آنکھیں بیماری کی وجہ سے دکھتی ہیں میری ٹانگیں دبلی پتلی ہیں مگر آپ کا ساتھ دینے کا وعدہ کرتا ہوں کہ میں آپ کے کام میں آپ کی مدد کرتا رہوں گا۔یہ بچہ حضرت علی تھے اور اس کمزور اور ڈیلی ٹانگوں والے بچے کو خدا تعالیٰ نے بعد میں کتنی طاقت دی یہ میں آپ کو بعد میں بتاؤں گی ہاں تو جب سب کے