گلدستہ — Page 19
14 بچہ۔مسلمانوں کے لئے مکہ میں رہنا بہت مشکل ہوگیا ہو گا۔مال - صرف فلم ہوتا تو شاید برداشت کرتے رہتے۔مگر مسئلہ یہ تھا کہ جس کام کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مقر کیا تھا وہی مشکل ہو گیا تھا۔آخر آپ نے دعا کے بعد فیصلہ کیا کہ جو بھی سفر کی طاقت رکھتا ہے۔وہ مکہ چھوڑ کر جشہ کی طرف چلا جائے وہاں کا بادشاہ بڑا انصاف پسند اور رحم دل ہے۔اسلام میں جب کسی بستی میں عبادت کی اجازت نہ ہو۔خدا کا پیغام پہنچانے میں روک ہو۔اور اپنے عقیدے کے اظہار پر پابندی ہو تو اس جگہ کو چھوڑ دینا ہجر کہلاتا ہے۔اس لئے مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کو ہجرت حبشہ کہتے ہیں۔نبوت کے پانچویں سال رجب کے مہینہ میں گیارہ مردوں اور چار عورتوں نے مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ان میں حضرت عثمان غنی اور ان کی بیوی حضرت رقیہ۔حضرت عبدالرحمن بن عوف ، حضرت زبیر بن العوام اور مصعب بن عمیر وغیرہ شامل تھے۔حبشہ براعظم افریقہ کے شمال مشرق میں جنوب عرب کے بالکل سامنے واقع ہے۔دونوں کے درمیان بحیرہ احمر ہے۔مسلمان پہلے میدانی سفر کر کے شعیبہ کی بندر گاہ تک گئے۔پھر تجارتی جہاز کے ذریعہ سفر کیا۔بچہ۔کیا مکہ والوں نے انہیں آسانی سے جانے دیا ؟ ماں۔نہیں انہوں نے بندر گاہ تک ان کا پیچھا کیا لیکن وہاں پہنچے تو جہاز روانہ ہو چکا تھا۔اس زمانے میں حبشہ ایک طاقتور اور مضبوط حکومت تھی جہاں مسلمانوں کو امن نصیب ہوا۔اور بادشاہ نے بھی بہت اچھا سلوک کیا۔آہستہ آہستہ چھپ کر تراشی افراد حبشہ چلے گئے۔اس دوران مکہ والوں