گلدستہ — Page 117
116 بچہ جیسے مسجد میں جاتے ہیں۔ماں۔جی ہاں ! اس کے علاوہ بھی مناسب لباس کا خیال رکھا جاتا ہے۔بچہ جیسے سکول جاتے وقت کسی کے گھر جاتے وقت کسی بزرگ سے ملتے وقت، اجلاس میں جاتے وقت۔ماں۔ہمارے پیارے آقا چاہتے ہیں کہ مسلمان عباس سے بھی مسلمان نظر آئیں۔دوسرے مذہب والوں کی طرح کا لباس نہ پہنیں، اور ان کی طرح نظر آنے کی کوشش نہ کریں۔بچہ۔ہمارے پیارے آقا میں کتنی چھوٹی چھوٹی باتیں سمجھاتے ہیں۔ماں۔ایک بات ایسی بنا دیتے تھے کہ اُس سے انسان خود باقی سب باتوں کے متعلق فیصلہ کرے۔باس کا نام لے لے کر نہیں بتایا کہ یہ پہنو، یہ تہ پہنو بلکہ ایک اصول بتا دیا کہ ایسا لباس پہنو جس سے دیکھنے میں مسلمان نظر آؤ۔اسی سے ایک اور بات یاد آ گئی۔ہمارے پیارے آقا نے یہ بھی فرمایا کہ جب بیچتے دس سال کے ہو جائیں (تقریباً وہی عمر نماز با قاعدہ پڑھنے کی ہے) تو الگ الگ بستروں میں سویا کریں۔بچہ۔اس سے اور کن باتوں کا علم ہوا ؟ ماں۔اگر سوچیں تو بہت سی باتوں کا علم ہوتا ہے مثلاً تم دیکھو جب بیچتے چھوٹے ہوتے ہیں سب کو پیارے لگتے ہیں ، سب گود میں اُٹھاتے ہیں کندھے پر بٹھا لیتے ہیں مگر اس بات سے اندازہ ہوا کہ اب گود میں بیٹھنے سے زیادہ بہتر ہے کہ الگ الگ بڑوں کی طرح بیٹھیں۔کھیل بڑوں گود میں بھی ان باتوں کا خیال رکھیں۔لڑکیاں الگ لڑکیوں میں کھیلیں