گلدستہ

by Other Authors

Page 106 of 127

گلدستہ — Page 106

بچہ : اس کا مطلب بتائیے۔مان باس کا مطلب ہے کہ محمد رسول اللہ) اللہ کے رسول ہیں۔اور ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں (یعنی قوت ہو چکے ہیں جیسے ہم اپنے باپ دادا یا پہلی قوموں کے متعلق کہتے ہیں وہ گذر چکے ہیں یعنی فوت ہو چکے ہیں) تو کیا اگر وہ فوت ہو جائیں یا قتل کر دیئے جائیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے یعنی (اسلام چھوڑ دو گے۔اس آیت کا سُنا تھا۔کہ حضرت عمر فاروق ض بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگے۔اور انہیں یقین ہو گیا کہ اب پیارے آقا ہم میں موجود نہیں۔حضرت ابو بکر صدیق نے جب یہ آیت تلاوت کی اُس وقت مدینہ میں تمام بڑے جلیل القدر صحابہ موجود تھے لیکن کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ حضرت عیسی تو زندہ آسمان پر موجود ہیں۔ہمارے آقا بھی زندہ رہیں گے۔سب کا اس وقت خاموش رہنا ثابت کرتا ہے۔کہ قرون اولیٰ کے مسلمان وفات مسیح کے قائل تھے اور یہ امت مسلمہ کا سب سے بڑا اجماع تھا جو تمام انبیاء کی وفات ثابت کرتا ہے۔بچہ : حضرت عیسی کی وفات تو بالکل سمجھ میں آگئی۔لیکن یہ بات کہ آپ ہی دوبارہ آئیں گے (کیونکہ عیسی کے لئے لفظ نازل ہونا۔نزول کرنا آتا ہے) اس کا کیا مطلب ہے۔ماں : مسلمانوں نے اصل میں حضرت عیسی کے ساتھ لفظ نازل ہونا یا نزول کرنا سے غلطی کھائی ہے۔اور عیسائی پادریوں نے اس سے بھر پور فائدہ اٹھایا۔میں آپ کو پہلے لفظ نازل اور نزول سمجھا دوں۔پھر بات آگے بڑھے گی۔اللہ تعالیٰ نے ہر اس چیز کے بارے میں لفظ نازل یا نزول