گلدستہ

by Other Authors

Page 101 of 127

گلدستہ — Page 101

1+1 یعنی جب تک میں ان میں (موجود) رہا میں ان کا نگران رہا۔مگر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ہی ان پر نگران تھا۔یہاں پہلے حصے میں ان کی زندگی کے متعلق بتایا اور دوسرے حصے میں ان کی وفات کا ذکر ہے۔کیونکہ یہی لفظ اللہ تعالی نے عام بندوں کے لئے قرآن پاک میں استعمال فرمایا یعنی يُتَوَفُونَ مِنْكُمُ (البقرہ: ۲۳۵) تم میں سے وفات پا جاتے ہیں۔جہاں عام لوگوں کے متعلق استعمال فرمایا وہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی فرمایا نَتَوَفَّيَنَّكَ (یونس : ۴۷) ہم تجھے وفات دیں گے اور ایک اور مقام پر سورہ سجدہ :۱۲ میں موت کے فرشتے کی ڈیوٹی بھی اس لفظ کے استعمال سے تبادی کہ تو فلم کہ وہ تم کو وفات دیتا ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ اس لفظ کو رسول کریم نے بھی ایک دو جگہ نہیں کئی جگہ استعمال فرمایا ہے۔ہم نماز جنازہ پڑھتے ہیں اس میں بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے یعنی مَن تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا۔اس وقت میت بھی سامنے پڑی ہوتی ہے اور ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے حیات کے مقابل پر توفی کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔پھر ایک موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بخاری شریف میں اسی آیت کو اپنے متعلق بھی بیان فرمایا کہ میں بھی قیامت کے روز اسی طرح کہوں گا جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام نے کہا تھا یعنی پوری آیت کہ میں جب تک ان میں موجودر یا ان کا نگران رہا مگر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ہی اُن پر نگران تھا۔اب جو معنی اس آیت یا لفظ کے اللہ تعالیٰ نے اور رسول کریم نے بتائے ہیں۔ہم تو اسی کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام کو وفات یافتہ