گل — Page 62
62 آپ نے فرمایا کہ ہاں اے ابو بکر دونوں جہاں کے خالق نے مجھے نبی بنا کر دنیا کی اصلاح کی ذمہ داری ڈالی ہے۔آنحضور اللہ کے پیغام کو اور زیادہ بیان کرنا چاہتے تھے مگر حضرت ابو بکر نے فرمایا۔لا إله إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله میں مسلمان ہوتا ہوں۔میرے لئے یہی کافی ہے۔آپ سچ بولنے والے امانت دار ہیں۔آپ نے جو کہا سچ کہا میں ایمان لاتا ہوں۔آپ ایمان لانے والوں میں سے پہلے مرد تھے۔مسلمان ہو کر ہر سختی جو کہ مکہ والوں نے کی برداشت کی مگر اپنے پیارے دوست کا ساتھ نہ چھوڑا۔آپ کی محبت دن بدن زیادہ ہوتی رہی۔آپ نے اپنا سب کچھ اسلام کے لئے وقف کر دیا۔پہلے چھپ چھپ کر تبلیغ کی پھر کھلے عام تبلیغ کرتے رہے۔حضرت بلال کو خرید کر آزاد کیا۔مکہ کے حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے تھے۔آخر آنحضور نے مکہ چھوڑ کر مدینہ جانے کا فیصلہ کیا۔اس سفر کا سارا انتظام حضرت ابو بکڑ نے کیا۔اور دونوں دوستوں نے ایک ساتھ ملکہ کو چھوڑا۔رات بھر اور اا دن بھی سفر کرتے رہے۔دو پہر ہوئی تو شدید گرمی کے باعث ایک چٹان کے سائے میں تھوڑی جگہ صاف کر کے آنحضور کو آرام فرمانے کے لئے کہا اور خود دیکھنے لگے کہ دشمن پیچھا کرتا ہوا قریب تو نہیں آ گیا۔آپ کو ایک چرواہا نظر آیا۔اس سے بکری کا دودھ لے کر آنحضور کو پلایا۔اس غار میں حضور کا ساتھ دینے کی وجہ سے حضرت ابو بکر کو یارِ غار کہتے ہیں۔غار زیادہ بڑی نہ تھی۔حضرت ابو بکر نے فرمایا۔حضور دشمن سر پر آپہنچے ہیں۔ہمیں اُن کے پاؤں نظر آرہے ہیں اگر وہ ذرا جھک کر دیکھیں تو وہ ہمیں دیکھے سکتے ہیں۔آنحضور نے جواب دیا تم نہ کرو ہمارے ساتھ تو اللہ تعالیٰ ہے۔حضرت ابو بکر چاہتے تھے کہ آنحضور کچھ آرام فرمالیں۔پھروں