گل — Page 61
61 خرچ کر کے خوشی حاصل کرنے کی بیکار کوشش کرتے وہاں حضرت ابوبکر کو ایسے کاموں میں خوشی ہوتی جس سے وہ کسی کو خوش کر سکیں۔پیسہ تو اُن کے پاس تھا ہی۔جس کو ضرورت مند دیکھتے۔بغیر جھجکے جتنا دل کرتا دے دیتے اور لینے والے کے چہرے پر خوشی دیکھ کر بہت خوش ہوتے۔مکہ میں اُن دنوں انسان مارکیٹ میں ایسے بکتے تھے جیسے سبزی گوشت یا کھلونے بکتے ہیں۔پھر ایسے خریدے ہوئے انسانوں کو گھر میں نوکر بنا رکھتے تھے۔اور ان پر بڑا ظلم کرتے تھے۔حضرت ابو بکرا ایسے خریدے ہوئے غلاموں پر بڑا رحم کرتے اور چپکے سے اُس کی قیمت ادا کر کے خرید کر آزاد کر دیتے۔یہ بہت بڑی نیکی تھی۔لوگ کیسے بھی ہوں۔یہی چاہتے ہیں کہ ان کا سردار بہت اچھا ہو۔اور ابوبکر کی خوبیوں کا سب کو علم تھا۔آپ بہت صحت مند خوبصورت اور جوان تھے۔آپ کے قبیلے بنو تمیم نے آپ کو اپنا سردار بنا لیا آپ ردار تھے۔مگر غرور و تکبر بالکل بھی نہیں تھا۔ہر وقت کوئی موقع تلاش کرتے رہتے کہ کسی کی خدمت کی جاسکے۔جب اپنے دوستوں سے بے تکلفی کے ماحول میں باتیں کرتے تو یہی باتیں کرتے کہ سب لوگ پتھر کہ بتوں کی پوجا کرتے ہیں۔جبکہ پتھر کے بت نہ تو کسی کا اچھا کر سکتے ہیں نہ بُرا۔پھر ضرور خدا کوئی اور ہے۔پتھر کے بت نہیں۔حضرت ابو بکر کو بتوں کی ہو جا سے سخت نفرت تھی۔وہ جب بھی نیک کام کرنا چاہتے۔غریبوں کی مدد کرتے۔اسی میں خوش ہوتے۔ایک دفعہ ایسا ہوا کہ آپ تجارتی سفر سے واپس آرہے تھے کہ کسی نے آپ کو بتایا کہ مکہ میں تمہارا دوست محمد کہہ رہا ہے کہ اللہ ایک ہے اور محمداللہ کے رسول ہیں۔حضرت ابوبکر سید ھے آنحضور کے پاس پہنچے اور پوچھا۔کیا یہ خبر صحیح ہے کہ اللہ نے آپ کو نبی بنا کر بھیجا ہے۔