گل

by Other Authors

Page 21 of 102

گل — Page 21

21 جائے اور وہ سڑک پر کھڑا ہو کر ہر غریب کو جھولی بھر بھر کے دے کر خالی ہاتھ اپنے گھر لوٹ آئے۔یہ حوصلہ ہمارے آقا کو خُدا تعالیٰ نے دیا تھا۔آپ کو تو حضرت خدیجہ کی نیکی محبت اور گھر کے آرام کی ضرورت تھی آپ کو وہ مل گیا تو سب کچھ مل گیا آپ کبھی حضرت خدیجہ سے اونچی غصے والی آواز میں بات نہ کرتے تھے پھر خدا تعالیٰ نے آپ کو بچے دیے۔قاسم ، طیب اور طاہر مگر لڑ کے بچپن ہی میں فوت ہو گئے۔بیٹیاں حضرت زینب، حضرت رقیہ، حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ بڑی ہو ئیں ، شادیاں ہو ئیں۔بچہ : آپ کبھی کبھی اپنی چا سے ملنے جاتے ہوں گے۔ماں : چچا سے ہر بڑے کام میں مشورہ کرتے اُن کی بہت عزت کرتے ، ایک دفعہ مکہ میں سخت قحط پڑا۔حضرت ابوطالب کے بہت سے بچے تھے کھانے کی بہت کمی ہوگئی تو ہمارے آقا نے اپنے دوسرے چچا حضرت عباس سے کہا آج کل چا کے گھر تنگی ہے اور بچے مشکل سے پیٹ بھر کر کھانا کھا سکتے ہیں ایسا کرتے ہیں کہ ایک بیٹا آپ لے جائیں اور ایک بیٹا میں اپنے ساتھ رکھ لیتا ہوں مل گئے بچہ : پھر حضرت علی جو اُس وقت کمزور سا بچہ تھے ہمارے آقا کو - ماں :۔اس زمانے کا ایک اور واقعہ آپ کو سناؤں خانہ کعبہ کی مرمت ہورہی تھی سب کام ہو گیا۔حجر اسود رکھنا باقی تھا۔حجر اسود کی بڑی عزت تھی۔ہر سردار چاہتا تھا کہ وہ حجر اسودر کھے جھگڑا ہونے والا تھا کہ کسی نے تجویز دی لڑائی نہ کرو ایسا فیصلہ کرو جو سب کو قبول ہو۔کل صبح جو سب سے پہلے خانہ کعبہ میں داخل