گل — Page 20
20 پاس مکان تھے۔آپ حضرت خدیجہ کی خواہش پر حضرت ابوطالب کی اجازت سے ان کے مکان پر رہنے لگے۔بچہ :۔اب ہمارے آقا کو اپنا الگ مکان مل گیا۔ماں :۔صرف مکان ہی نہیں حضرت خدیجہ بہت عزت اور پیار کرنے والی عورت تھیں۔آپ نے ہمارے آقا کی خوبیاں دیکھیں تو سمجھ گئیں کہ آپ بہت اعلیٰ شخصیت کے مالک ہیں اپنا سارا مال سارے مکان سارے غلام سب کچھ ہمارے آقا کو دے دیا۔بچہ : پھر تو آپ بہت امیر ہو گئے ہوں گے۔- ماں :۔بہت امیر ہو گئے مگر جانتے ہو آپ نے اس دولت کا کیا کیا۔ساری دولت، سارا مال غریبوں میں بانٹ دیا۔سارے غلام آزاد کر دیے اب جو گھر بنا اُس میں حضرت خدیجہ تھیں۔ہمارے آقا تھے اور اُن کی کچی محنت کی کمائی سے مشکل سے گزارا ہوتا تھا۔دونوں ایک دوسرے کا خیال رکھتے حضرت خدیجہ کھانا پکا تیں تو آنحضور لکڑیاں لاتے۔کپڑے مرمت کر لیتے جوتا مرمت کر لیتے گھر کا ہر قسم کا کام دونوں مل جل کر ایک دوسرے کے مشورے سے کرتے۔بچہ :۔آپ نے تو بتایا تھا کہ عرب کے لوگ عورتوں کی عزت نہیں کرتے تھے۔ماں : وہ بھی ٹھیک تھا اور یہ بھی ٹھیک ہے آپ کی تو خدا تعالے تربیت کر رہا تھا۔اس لئے کام بھی سب سے بد اتھے آپ نے بھی کوئی ایسا انسان دیکھا ہے جس نے ساری عمر مشکل میں گزاری ہو پھر اچانک بہت سا مال مل