گل — Page 78
78 صرف نظام کسی ہی میں ایک مرکز نہیں ہوتا آپ کو ایک اور مثال دیتی ہوں جس سے ایک مرکز کی اہمیت کا اندازہ ہو سکے گا۔ہر جاندار کا جسم چھوٹے چھوٹے اجزاء سے مل کر بنا ہے۔یہ جز و خلیے یا Cells کہلاتے ہیں ہر خلیہ کا اپنا یہ جز ہر مرکز نیولیس ہوتا ہے۔باقی ساری چیزیں اس نیو کلکس کے گرد گھومتی ہیں۔اگر نیو کلکٹس کو نکال لیں توا Cel تباہ ہو جاتا ہے اگر دوسرا ڈال دیں تب بھی تباہ ہو جاتا ہے جس طرح نظام شمسی میں سورج سے سب گرے روشنی گرمی اور طاقت حاصل کرتے ہیں۔اسی طرح خلیے کے مرکز نیو کلکس کی ذمہ داری ہے و Cell کے سارے نظام کو چلائے۔آپ کو ایٹم کا خیال آرہا ہوگا۔ایٹم کا نظام بھی ایک مرکز کے گرد گھومتا ہے جتنی دھاتیں ہیں ہٹی ہے پتھر ہیں پوری زمین کا ایک چھوٹے سے چھوٹا ٹکڑا کرتے جائیں تو آخر میں ہمیں ذرہ ملے گا اس کو ایٹم کہتے ہیں۔اس ایٹم میں بھی اپنا نیو کلکس ہوتا ہے۔اس کے ارد گرد منفی طاقت کے الیکٹرون حرکت کرتے ہیں اگر باہر سے کوئی الیکٹرون داخل ہو تو نی کلکس کو توڑ دیتا ہے اور جب مرکز ٹوٹ جائے تو سارا انظام ختم ہو جاتا ہے بڑی تباہی آتی ہے۔بڑے بڑے شہر لمحوں میں مٹی کا ڈھیر بن جاتے ہیں ہمارے گھر بھی ایک یونٹ ہوتے ہیں ہر خاندان کا ایک سربراہ ہوتا ہے۔جو عام طور پر باپ ہوتا۔بچے زیادہ ہو سکتے ہیں مگر باپ ایک ہی ہوتا۔ملک کے نظام میں بھی ایک بادشاہ ہوتا ہے یا ایک صدر یا وزیراعظم ہوتا ہے۔سکول میں ایک پرنسپل ہوتا ہے۔جو سارے سکول کا نظام سنبھالتا ہے۔بات لمبی ہوگئی ہے مگر مرکز کی اہمیت بتائی تھی اور یہ بھی کہ مرکز طاقت دیتا ہے۔دنیا کے نظاموں کے کچھ مرکز سمجھا کر اب آتے ہیں روحانی نظام کی طرف جس میں خدا تعالیٰ کی حکومت ہے خدا تعالیٰ نے زمین پر روشنی دینے کے