گل

by Other Authors

Page 77 of 102

گل — Page 77

77 حصہ ملاب اللہ تعالیٰ نے اندھیرے میں ایک چراغ جلا دیا۔اب جہاں بھی اُجالا یا روشنی نظر آئے۔اُس نے اُسی روشنی سے حصہ لیا ہوگا۔اسی سے اپنی موم بتی جلائی ہو گی۔موم بتی جلانے سے چراغ کی روشنی کم نہیں ہوتی۔موم بتی بھی روشنی پھیلانے لگتی ہے۔ایسے چراغ کو سراج کہتے ہیں۔اور روشنی کے لئے عربی میں منیر کا لفظ آتا ہے۔سراج منیر ایسے چراغ کہتے ہیں جو بہت روشنی دیتا ہے۔جسے اللہ تعالی خود جلاتا ہے اور ہر وقت روشن رہتا ہے۔قرآن مجید میں ہمارے پیارے آقا کا نام سراج منیر بھی آیا ہے۔سراج کا مطلب سورج بھی ہے آپ نے دیکھا سورج کتنا روشن ہے ہر صبح نکلتا ہے ساری دنیا کو روشنی دیتا ہے۔دنیا کو روشنی دینے سے اسکی روشنی کم نہیں ہوتی اسکی اپنی روشنی ہے۔اپنا نور ہے اور نظام کشسی کے سارے سیارے اس کے گرد گھومتے ہیں کیونکہ اس کی اپنی کشش ہے جس نے ان کرؤں کی اپنی طرف کھینچا ہوا ہے۔مناسب فاصلوں پر مناسب رفتار سے مقرر راستوں پر تو سیارے سورج کے گرد چکر لگاتے ہیں۔وہ سب اپنے لئے روشنی ، گرمی اور طاقت سورج سے حاصل کرتے ہیں۔ان سیاروں میں ایک ہماری زمین ہے وہ بھی سورج کے گرد چکر لگاتی اور اس سے روشنی لیتی ہے۔جب رات ہوتی ہے تو سورج کا چراغ نہیں بجھتا بلکہ وہ دوسری طرف کی دنیا کو روشنی دے رہا ہوتا ہے۔جو حصہ سورج سے روشنی لیتا ہے وہاں دن ہوتا ہے۔اور دوسرے حصے میں رات۔سورج کے خاندان نظام شمسی میں سورج مرکز ہے۔کیا ، ممکن ہے کہ اس خاندان میں کوئی اور سورج آجائے؟ ایسا ہر گز ممکن نہیں ہے سارا نظام تباہ ہو جائے گا۔نہ پہلا سورج رہے گا نہ نیا آنے والا نہ زمین چاند اور نہ دوسرے سیارے۔کیا نکہ ہر نظام کا صرف ایک مرکز ہو سکتا ہے۔صرف ایک سورج ہو سکتا ہے۔