گل — Page 68
68 چھوڑنے پر تیار نہ تھیں کہنے لگے اچھا دکھاؤ کہ تم کیا پڑھ رہے تھے فاطمہ نے کہا کہ ایسے نہیں تم پہلے غسل کر کے پاک ہو جاؤ۔جب عمر غسل کر کے آئے اور قرآن کریم کی آیات پڑھیں تو ان پر جادو سا ہو گیا ادھر عمر پر جادو ہو رہا تھا اُدھر آنحضور دارارقم میں دعا مانگ رہے تھے کہ اے خدا دو عمروں میں سے ایک کو اسلام میں داخل کر دے۔خدا نے آپ کی دُعا سن لی اور تھوڑی دیر میں دروازے پر دستک ہوئی صحابیوں نے سوار خوں سے جھانکا تو عمر کو دیکھا اور گھبرا گئے آنحضور نے خود اُٹھ کر دروازہ کھولا اور فرمایا۔عمر کیوں آئے ہو اور کیا ارادہ ہے کیا ساری عمر لڑتے ہی رہو گئے“ عمر نے سر جھکا کر جواب دیا۔حضور مسلمان ہونے آیا ہوں میری غلطیاں معاف کر دیں اور اپنے قدموں میں جگہ دیں۔آنحضور اتنے خوش ہوئے کہ آپ کا چہرہ چاند کی طرح چمکنے لگا۔آپ نے اونچی آواز میں اللہ اکبر کہا اور عمرکو کلمہ پڑھایا۔اب حضرت عمرؓ اپنے سارے گناہوں سے تو بہ کر چکے تھے آپ نے آنحضور سے کہا کہ حضور اگر ہم حق پر ہیں تو چھپ چھپ کر نماز کیوں پڑھیں کعبہ میں چلیں دیکھتا ہوں کون روکتا ہے۔آپ آگے آگے چلے اور اُس وقت تک مسلمان ہونے والے چالیس بیالیس آدمی اُنکے پیچھے پیچھے حرم کعبہ میں داخل ہوئے اور خدا کا شکر ادا کیا۔مکہ سے مدینہ ہجرت کے بعد کھلے عام نماز پڑھنے کا موقع ملا تو یہ سوال پیدا ہوا کہ نماز کے لئے سب کو کیسے اکھٹا کیا جائے سب نے اپنی اپنی تجویز پیش کی۔حضر عمر نے نئی بات کی۔فرمانے لگے کہ میں نے خواب میں ایک شخص کو نماز کے لئے اس طرح پکارتے سُنا ہے آپ نے آذان کے الفاظ سنائے۔انحضور کو بہت پسند آئے۔بچوں آج تک آذان کے الفاظ وہی ہیں جو حضرت عمر نے خواب میں سنے تھے۔یہ الفاظ حضرت بلال کو سکھائے اور اذان دینے کا حکم دیا۔