گل — Page 17
17 ماں :۔آپ کے اور بھی چچا تھے مگر آپ کے ابو حضرت عبداللہ اور حضرت ابو طالب کی امی ایک ہی تھیں اس خیال سے آپ کے دادا نے سوچا کہ حضرت ابوطالب بچے کو زیادہ پیار سے رکھیں گے۔آپ کے دادا جان نے آپ کے چا کو بلا کر نصیحت بھی کی تھی کہ اس چاند جیسے بچے کو بہت پیار سے رکھنا۔کیا ابو طالب نے پھر آپ کو پیار سے رکھا؟ ماں :۔اپنے بچوں سے زیادہ پیار کیا۔حتی کہ جب ایک دفعہ سفر پر جارہے تھے تو پیارے آقا کی خواہش پر اُن کو ساتھ لے گئے۔یہ شام کا سفر تھا۔ای سفر کا وہ واقعہ ہے کی بحیرہ راہب نے آپ کو دیکھ کر پہچان لیا کہ یہ بچہ بڑا ہو کر اللہ کا نبی بنے گا۔اُس وقت آپ بارہ سال کے تھے۔بچہ :۔اُس زمانے میں عرب کے لوگ بتوں کی پوجا کرتے تھے۔آپ کے دادا اور چچا بھی بتوں کی پوجا کرتے ہوں گے اور آپ ساتھ جاتے ہوں گے؟ ماں :۔آپ نے مجھے ایک واقعہ یاد دلا دیا۔ہمارے آقا نے کبھی بتوں کی پوجا نہیں کی۔ملکہ میں ایک بہت ہوتا تھا ہوا نہ اُس کا نام تھا۔ہر سال اُس بت کا ایک دن مناتے تھے۔سارے مکہ سے لوگ جمع ہوتے اور اُس کی عبادت کرتے۔ہمارے آقا کا خاندان مکہ کے سرداروں کا خاندان تھا سب بڑھ چڑھ کر شوق سے ہوانہ بہت کا سالانہ دن مناتے۔ایک دفعہ سب تیاریاں کر رہے تھے۔اتنے میں کسی کو خیال آیا کہ محمد کہاں ہیں ادھر ادھر دیکھا تو آپ ایک طرف چپ چاپ بیٹھے کچھ سوچ رہے تھے۔آپ سے کہا گیا آج اتنا بڑا کام ہو رہا ہے آپ نہیں جائیں گے جو ایسے چپ چاپ ایک طرف بیٹھے ہیں۔آپ نے صاف انکار کر دیا میں نہیں جاؤں گا۔گھر کے سب لوگ منانے لگے۔