گل — Page 65
65 بڑا مزے دار ہے۔مدینہ میں ایک کمزور بوڑھی عورت تھی جس کو نظر نہیں آتا تھا اور وہ اپنا کام نہیں کر سکتی تھی۔حضرت عمرؓ صبح صبح جاتے تو اس کا گھر صاف کرنا اور دوسرے کام کر آتے۔پھر ایسا ہوا کہ حضرت عمرؓ گئے تو کام پہلے ہی ہو چکا تھا۔اے دن گئے تو بھی کام ہو چکا تھا۔حضرت عمر نے سوچا کہ یہ کون ہے۔جو اُن سے خدمت کا موقع چھین لیتا ہے۔چھپ کے بیٹھ گئے۔صبح صبح ابھی اندھیرا تھا۔ایک شخص بڑھیا کے گھر سے صفائی کر کے نکلا۔تو حضرت عمر نے دیکھا وہ حضرت ابوبکر صدیق تھے۔اس سے بہت کی باتوں کا پتہ لگتا ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ نیک لوگ اس تلاش میں رہتے ہیں کہ کہاں انہیں خدا کو خوش کرنے کا موقع میل سکتا ہے۔اور اگر یہ موقع کوئی اور چھین لے تو انہیں افسوس ہوتا ہے۔ہم کو بھی چاہئے کہ ہم اپنے ارد گرد دیکھا کریں۔ہم کسی کی مدد کر سکتے ہیں۔پیسے دے کر ہاتھ سے کام کر کے راستہ دکھا کے کسی مریض کو دوائی پلا کے کسی بھی طرح۔۔۔