غنچہ

by Other Authors

Page 51 of 76

غنچہ — Page 51

51 ہو۔کچھ سالوں کے بعد بچے واپس مکہ میں اپنے ماں باپ کے پاس آ جاتے اس ننھے شہزادے کو مکہ کے قریب گاؤں میں رہنے والی دائی حلیمہ اپنے ساتھ لے گئیں۔دائی حلیمہ غریب سی عورت تھیں۔دبلی پتلی کمزوری اونٹنی پر مکہ آئی تھیں۔دوسرے لوگوں نے اپنے بچے اس غریب عورت کو نہ دیے۔اور گاؤں کی دوسری عورتیں بغیر باپ کے بچے کو لینے پر راضی نہ تھیں کہ اس یتیم بچے کو پال کر ہمیں کیا ملے گا۔اللہ تعالیٰ نے تو اس ننھے بچے کی برکتیں دکھانی تھیں۔وہ اونٹنی جو مشکل سے چل کر مکہ پہنچی تھی۔اب جو ننھے بچے کو گود میں لے کر دائی حلیمہ اس پر بیٹھیں تو سب سے تیز چلنے لگی۔دائی حلیمہ کا گھر اس بچے کے آنے سے خوشیوں سے بھر گیا۔بکریاں بہت سا دودھ دینے لگیں۔بچے موٹے تازے ہو گئے۔وہ جگہ جہاں وہ رہتی تھیں۔ہری بھری ہوگئی۔جب ننھے شہزادے کی عمر چار سال ہوئی تو دائی حلیمہ آپ کو واپس مکہ لے آئیں۔حضرت آمنہ بچے کو دیکھ کر بہت خوش کیونکہ پیارا پیارا صحت مند بچہ بہت ہی پیاری باتیں کرتا اور بھولی بھالی حرکتوں سے سب کی آنکھوں کا تارا بن گیا۔حضرت آمنہ نے سوچا میں اس پیارے بچے کو رشتہ داروں اور ماموؤں سے ملا لاؤں۔آپ مدینے لے گئیں۔مدینے سے واپس مکہ آتے ہوئے راستے میں تھے محمد کے والد کی قبر پر دُعا کرنا چاہتی تھیں۔راستے میں حضرت آمنہ بیمار ہو گئیں اور پھر فوت ہو گئیں۔تفصے محمد کے ابو تو پہلے ہی نہیں تھے۔اب امی بھی نہ رہیں۔ایک خادمہ اُم ایمن آپ کو مکہ لائیں۔اور دادا کی گود میں ڈال دیا۔دادا کی تو جیسے جان ہی ننھے پوتے میں تھی۔سارا سارا دن اُٹھائے اُٹھائے پھرتے۔ہر وقت ساتھ ہی رکھتے۔کبھی کھیلتے کھیلتے ننھے محمد ادھر اُدھر ہو جاتے تو دادا پیار سے چمٹا کر کہتے۔دادا کی جان میری نظروں سے دُور نہ ہوا کرو۔بہت پیار کرتے کہ بچے کو امی ابو کی کمی محسوس نہ ہو مگر خدا تعالیٰ کو تو کچھ اور ہی منظور تھا۔دادا بوڑھے ہو چکے تھے۔جب ننھے محمد ﷺ کی عمر آٹھ سال کی ہوئی