غنچہ

by Other Authors

Page 55 of 76

غنچہ — Page 55

55 جاتے انہیں محمد اور محمد کے خدا سے اتنا پیار ہو جاتا کہ وہ بتوں سے نفرت کرتے۔ہر سختی برداشت کرتے اور اس میں خوش ہوتے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم جہاں چار آدمی کھڑے دیکھتے کسی بازار میں کسی گلی میں انہیں خدا کا پیغام دیتے۔کوئی ہنس دیتا۔کوئی سمجھتا ان کے دماغ کو کچھ ہو گیا ہے اور کوئی مان لیتا۔ایک دفعہ آپ طائف (ایک شہر ہے ) میں ایک خدا کا پیغام دے رہے تھے کہ لوگوں نے آپ کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔آپ کو مارا پیٹا، پتھر اٹھا اٹھا کر مارے۔پتھر لگتے سے آپ زخمی ہو گئے جگہ جگہ سے خون نکلنا شروع ہوا۔خون بہہ بہہ کر آپ کے جوتے بھر گئے مگر آپ لوگوں کو یہی کہتے رہے۔بُری عادتیں چھوڑ کر ایک اللہ کو مان لو۔لوگ صرف مارتے ہی نہ تھے ملنا جلنا ختم کر دیتے۔کھانے پینے کی چیزیں نہیں دیتے تھے۔مکہ میں اتنا ظلم دیکھا تو آپ نے سوچا مجھے صرف مکہ والوں کو اچھا نہیں بنانا۔مجھے تو ساری دنیا کو اچھا بنانا ہے۔آپ نے اپنا گھر، اپنے رشتہ دار اپنا شہر چھوڑا اور مسلمانوں کے ساتھ مدینہ تشریف لے آئے۔مدینہ کے لوگ اچھے تھے۔آپ ﷺ کو ستایا نہیں مگر مدینہ کے اردگرد یہودی اور دوسرے لوگ رہتے تھے۔وہ آپ ﷺ پسند نہ کرتے تھے۔ادھر مکہ والے بھی بھولے نہیں تھے کہ آپ ان کے بتوں کو غلط کہتے ہیں۔مدینہ میں آپ کو بہت سی لڑائیاں لڑنی پڑیں۔لوگ مجھتے تھے ہم سب مل کر مسلمانوں کو مارڈالیں گے۔تو نہ مسلمان رہیں گے نہ یہ نیا مذہب پھلے گا۔مگر جو خدا تعالیٰ کا پیارا مذہب ہو۔خدا تعالیٰ کا پیارا انسان ہو وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا لڑائیاں اس زمانے میں ایسی ہوتی تھیں کہ بڑے سے میدان میں ایک طرف مسلمان کھڑے ہو جاتے اور دوسری طرف کا فر کھڑے ہو جاتے کبھی پیدل کبھی گھوڑوں یا اونٹوں پر اور ان کے پاس ہتھیار ہوتے تھے۔تلواریں ،تیر کمان اور نیزے۔آمنے سامنے جنگ ہوتی تھی۔اللہ کی مدد تو مسلمانوں کے ساتھ ہوتی تھی۔مسلمان جیت جاتے اور کافر اپنا سامان اور زخمیوں