غنچہ

by Other Authors

Page 40 of 76

غنچہ — Page 40

40 نے ہمیشہ سب کو راستہ دکھانا تھا۔خدا تعالیٰ نے اس اونٹنی کو طاقت دی۔اور وہ سب سے آگے آگے چلنے لگی۔اس نے بہت سارا دودھ بھی دیا تا کہ بچہ پیٹ بھر کے دودھ پی سکے جب حضرت حلیمہ گھر پہنچیں تو دیکھتے ہی دیکھتے اُن کے گھر کی شکل ہی بدل گئی۔بکریاں زیادہ دودھ دینے لگیں کھیت ہرے بھرے ہو گئے۔باقی بچے بھی موٹے تازے ہو گئے۔بچہ اب تو وہ عورتیں بہت جلی ہوں گی جو دائی حلیمہ کا مذاق اُڑاتی تھیں۔ماں۔جلی یا نہیں یہ تو پتہ نہیں مگر یہ ضرور ہوا کہ سب کو پتہ لگ گیا کہ بنو ہاشم کا یہ بچہ کوئی عام بچہ نہیں ہے۔اس کے ساتھ خدا کی برکت آئی ہے۔یہ بچہ شروع سے ہی بڑا بہادر اور پیارا تھا۔بچہ۔بہادری کا کیسے علم ہوا۔ماں۔ایک واقعہ سنو ایک دفعہ ننھے محمد اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ بکریاں چرا رہے تھے کچھ ڈا کو آئے اور جلدی جلدی بکریاں اکٹھی کر کے بھگانے لگے اس چھوٹے سے پیارے بچے نے ڈاکوؤں کا راستہ روک لیا اور کہا میں یہ بکریاں نہیں لے جانے دوں گا۔ڈاکوؤں نے اپنے سردار کو بتایا کہ ایک بچہ ہے جو بکریاں پچرانے نہیں دے رہا۔سردار آیا تو آپ نے سردار سے بھی کہہ دیا یہ بکریاں ہماری ہیں ہم تمہیں یہ بکریاں لے جانے نہیں دیں گے سردار اس بہادر بچے کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔گھوڑے سے اتر کر آیا اور پوچھا تمہارا نام کیا ہے۔"محمد" " ننھے بچے نے تن کر بہادری سے کہا۔سردار کہنے لگا بہت پیارا نام ہے تمہارے ابو کا نام کیا ہے۔عبد المطلب نھے بہادر نے اپنے دادا کا نام بتالیا سردار بولا واقعی قریش کے سردار کے بیٹے کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔اس طرح اس نڈر بچے نے اپنے ننھے ننھے بازو پھیلا کر اپنی بکریوں کو بچالیا اور ڈا کو واپس چلے گئے۔