غنچہ

by Other Authors

Page 39 of 76

غنچہ — Page 39

39 (خادمہ) نے بتایا کہ آپ کے بھائی عبد اللہ کو خدا نے بیٹا دیا ہے تو انہوں نے خوش ہو کر اس لونڈی تو بیہ کو آزاد کر دیا۔بچہ۔دائی حلیمہ والی بات بھی بتائیے۔ماں۔اس زمانے میں عرب کے لوگ اپنے نھے بچوں کو شہر سے باہر گاؤں کی کھلی فضا میں بھیج دیتے تھے تا کہ صحت اچھی ہو اور اچھی زبان سیکھیں۔بچہ۔اچھی زبان کیا ہوتی ہے؟ ماں۔شہروں میں تو باہر سے لوگ آتے رہتے ہیں جو اپنی اپنی بولیاں بولتے ہیں جیسے کراچی میں پشتو ، سندھی ، پنجابی ، انگریزی، اُردو سب بولیاں بولنے والے مل جل کر رہتے ہیں۔مگر گاؤں میں صاف عربی زبان بولی جاتی تھی۔بچہ وہی زبان سیکھنا ہے جو وہ اپنے بڑوں کو بولتے دیکھتا ہے اور سکتا ہے۔بچہ دائی حلیمہ والی بات شروع کریں۔ماں۔ہوا یوں کہ مکہ میں عورتیں بچوں کو لینے آئیں لیکن جب اُن کو پتہ لگتا کہ اس بچے کے ابو نہیں ہیں تو وہ سوچتی کہ یتیم بچے کو پالنے کے بدلے اُسے کیا ملے گا اس کو چھوڑ و کسی امیر گھر کا بچہ لو۔اُدھر دائی حلیمہ کو کوئی بچہ نہیں مل رہا تھا کیونکہ وہ غریب کی تھیں اور اُن کی اونٹنی بھی کمزور تھی آہستہ آہستہ چلتی تھی۔امیر لوگوں نے سوچا اس کو بچہ کیوں دیں۔یہ بچے کو کیا کھلائے گی جب سب عورتیں بچے لے چکیں تو ایک دائی حلیمہ رہ گئیں اور ایک آمنہ کا چاند۔دائی حلیمہ نے سوچا جب مکہ آ رہی تھی تو سب عورتیں مذاق اُڑا رہی تھیں کہ حلیمہ کی اونٹنی تو چلتی ہی نہیں۔اور اب خالی ہاتھ واپس جاؤں گی تو پھر میرا مذاق اُڑے گا۔یہ سوچ کر انہوں نے اس پیارے بچے کو لے لیا اور اپنے قافلے کے ساتھ گاؤں کی طرف روانہ ہو گئیں۔بچہ کمزور اونٹنی تو اب بالکل بھی نہ چل سکتی ہوگی۔ماں۔نہیں بچے اب یہ اونٹنی سب سے آگے تھی کیونکہ اس پر وہ بچہ بیٹھا تھا جس