غنچہ — Page 60
60 پڑھے، محنت سے پڑھے اللہ پاک اس کی خود مدد کرتا ہے۔استاد ایک کتاب پڑھانی شروع کرتے آپ جلدی جلدی ختم کر کے انگلی کتابیں پڑھنے لگتے۔آہستہ آہستہ اتنے مطالعے اور ڈھیر ساری کتابیں پڑھنے سے اس بچے کے ذہن میں ایک مضمون سے دیجیسی بڑھنی شروع ہو گئی اور وہ مضمون تھا اسلامیات۔آپ قرآن مجید اور احادیث کی کتابیں زیادہ پڑھتے۔پھر قرآن مجید اور حدیث کے متعلق جو بڑے بڑے عالموں نے کتابیں لکھی تھیں وہ پڑھتے۔آپ کو ہر وقت کتابوں میں مصروف دیکھ کر اُن کے ابا جان سوچتے یہ بچہ بڑا ہو کر کیا کرے گا۔اُن کی زمینیں تھیں، جائداد تھی اس کے جھگڑے تھے ان سب کاموں کے لئے تو بہت چالاک اور ہوشیار آدمی کی ضرورت تھی مگر جب آپ دیکھتے کہ آپ کا بیٹا قرآن مجید پڑھتے پڑھتے اُٹھتا ہے تو مسجد چلا جاتا ہے۔مسجد سے آتا ہے تو حدیث کی کتاب لے کر بیٹھ جاتا ہے تو دل میں سوچتے کہ اچھی بات تو یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی خاطر وقت گزارا جائے مگر یہ کمائے کھائے گا کیا؟۔مرزا غلام احمد صاحب جب تھوڑے بڑے ہوئے تو اُن کے والد صاحب فوت ہو گئے اب تک تو انہیں کوئی فکر نہ تھا جتنی چاہتے کتابیں خرید تے کھانا گھر سے تیار آ جاتا تھا مگر اب کچھ فکر ہوا۔اللہ تعالیٰ سے دُعا کی اللہ تعالیٰ تو دعاؤں کو سنتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے بڑے پیارے بڑے لاڈ سے آپ کو تسلی دی اور فرمایا گھبراتے کیوں ہو کیا اللہ تعالیٰ تمہاری ضروریات پوری نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ کے لفظ قرآن شریف کی ایک آیت ہیں۔أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ اللہ پاک نے ساری عمر اپنے اس وعدہ کو نبھایا۔آپ کسی کا دل نہ دکھاتے ، اپنے دوستوں سے لڑائی جھگڑے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔بڑوں کی عزت کرتے۔چھوٹے بچوں سے پیار کرتے۔سارا دن عبادت اور دین کے متعلق کتابیں پڑھنے میں گزرنا اور رات کا اکثر حصہ نماز