غنچہ — Page 53
53 اچھا کام تجارت تھا۔سامان بیچنا اور سامان خریدنا۔اس میں جو بھی ہوشیار ہوتا بہت کما لیتا۔یہ پیارا لڑکا جب جوان ہوا تو تجارت شروع کی تجارت میں لوگ زیادہ فائدہ حاصل کرنے کے لئے جھوٹ بھی بولتے ہیں ، دھوکا بھی دیتے ہیں ، دوسروں کے مال پر قبضہ بھی کر لیتے ہیں بہت کچھ کرتے ہیں مگر اسے اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ہمارے شہزادے یہ سب نہیں کرتے تھے۔سیدھی بچی اور صاف بات کرتے۔لوگوں کو تو پتہ ہی تھا کہ یہ شخص دھوکا نہیں دے گا۔اس لئے سب سے زیادہ آپ کا مال بک جاتا۔اس طرح آپ کی سچائی کے ساتھ آپ کی امانت داری بھی سب کے علم میں آگئی پھر آپ ﷺ کی شادی ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیٹے بھی دیے اور بیٹیاں بھی دیں۔بیٹے تو بہت چھوٹی عمر میں فوت ہو گئے۔مگر بیٹیاں بڑی ہوئیں۔آپ کی عادت تھی کہ آپ سوچتے رہتے ہمیں کس نے پیدا کیا اور جس نے ہمیں پیدا کیا ہے اُس سے کس طرح ملا جا سکتا ہے۔اس زمانے میں لوگوں نے پتھروں سے بُت بنا لئے تھے۔خود ہی پھر سے بُت بناتے اور کہتے یہ خدا ہیں انہوں نے ہمیں پیدا کیا ہے۔مگر یہ بات تو دل کو نہیں لگتی تھی اللہ تعالیٰ آپ کے کو جلوہ دکھا رہا تھا۔آپ ﷺ کو خوابیں آتیں تو بالکل کچی ہوتیں جو خواب میں دیکھتے وہی صبح یا کچھ وقت کے بعد ہو جاتا۔لوگ یہ سنتے تو حیران ہوتے کہ یہ کیسا پاک آدمی ہے۔آپ شہر کے شور سے دور چلے جاتے اور دعائیں کرتے۔اے پیدا کرنے والے اے زمین آسمان ، سورج چاند بنانے والے تو خود مجھے بتا کہ سیدھا راستہ کیا ہے۔وہاں پہاڑ میں ایک چٹان (بڑے پتھر ) کے پیچھے تھوڑی سی جگہ بنی ہوئی تھی۔جہاں چھپ کر بیٹھا جا سکتا تھا۔اس کو غار حرا کہتے ہیں۔ایک دن ایسا ہوا کہ آپ اسی غار میں بیٹھے تھے۔دعائیں کر رہے تھے کہ ایک فرشتہ آیا۔اس فرشتے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو سب کچھ بتا دیا۔پتہ ہے کیا کیا بتایا۔بہت