مرزا غلام قادر احمد — Page 381
381 چلا گیا ہے مگر آن بان چھوڑ گیا ہر ایک راہ پہ اپنے نشان چھوڑ گیا وہ میرے شہر کا اک نوجوان شہزادہ محبتوں کی عجب داستان چھوڑ گیا ہے مكين خُلد زمینی مکان چھوڑ گیا سراپا ناز بدن خود جھلس گیا لیکن رو وفا کے لئے سائبان چھوڑ گیا تمام عہد میں یہ بازگشت گونجتی وہ اس طرح سے نبھا کے گیا ہے رسم وفا کہ مدتوں کے لئے ایک مان چھوڑ گیا خدائے قادر و مومن! انہیں اماں دینا جنہیں وہ تیرے لئے بے امان چھوڑ گیا فرید احمد نوید {1} (الفضل 19 جولائی 1999ء) جان پہ جان وارتے جاؤ اچھے انسان وارتے جاؤ ایک اک جان قرض ہے اس پر اپنے خاقان وارتے جاؤ یوں بھی پیاروں سے ہے جدا ہونا یوں ہے آسان، وارتے جاؤ یونہی سامان آشیاں ہوگا اپنے سامان وارتے جاؤ خواہشیں اس کے در پہ سب قرباں اپنے ارمان وارتے جاؤ اُونچا رکھنا لوائے احمد کو اور ہر شان وارتے جاؤ (الفضل 23 اپریل 1999ء)