مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 380 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 380

380 جان دی راه وفا میں عہد کو توڑا نہیں پھول تو نے دنیا رکھا نہیں مقدم دین پہ سفاک خنجر آزما ہوتے نہیں قاتل تو نے کیوں سوچا نہیں، سمجھا نہیں قطره قطره خونِ ” قادر“ کہہ رہا ہے ہمنشیں! قتیل راہِ حق ہو کبھی مرتا نہیں وہ یاد پھر آنے لگے ہم کو بہت ” عبداللطیف راه تسلیم و رضا کو آج بھی چھوڑا نہیں مشکلیں آتی رہیں ہر موڑ پر ہر کام پر صاحب ایماں کبھی جھکتا نہیں ڈرتا نہیں اپنے خوں سے تو نے ” قادر“ جو جلایا ہے چرا نفرتوں کی آندھیوں سے وہ دیا بجھتا نہیں کا بادل ٹوٹ کر بستی پہ برسا تھا ندیم ضبط کا دریا کناروں سے مگر چھلکا نہیں انور ندیم علوی (الفضل 6 اگست 1999ء)