مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 288 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 288

288 کہ چند سالوں کے اندر ان کی شکل ہی بدل ڈالی جن دنوں مہتم مقامی تھا سیلاب آ گیا تھا تو مجھے یاد ہے رات دو تین بجے گھر واپس آتا تھا جب تک سیلاب کا زور رہا۔خدمت والدین والدین اور بھائی بہنوں سے بہت محبت کرتا تھا۔اپنے والدین کی بے حد خدمت کی۔ان کے حقوق اپنی جگہ ادا کرتا رہا۔میرے اور بچوں کے حقوق اپنی جگہ ادا کرتا رہا۔ان دونوں کی ایک دوسرے کی وجہ سے کبھی حق تلفی نہیں کی۔والدین کی ساری ذمہ داریاں ایسے اُٹھائیں جس طرح والدین اپنے بچوں کی اُٹھاتے ہیں۔ان کے آرام کا خیال رکھتا تھا۔پچھلی گرمیوں میں ایک دن بہت دیر سے دفتر سے آیا اور بتانے لگا کہ ابا کے گھر Inverter لگوا رہا تھا کیوں کہ آج کل بجلی بہت بند ہو رہی ہے ان کو تکلیف ہوتی ہے۔ہر روز دن میں دو تین چکر ضرور ان کے گھر ان سے ملنے کے لئے لگاتا تھا وہ ربوہ سے باہر ہوتے تو ہر رات کو دیکھنے جاتا کہ چوکیدار آ گیا ہے کہ نہیں۔انہوں نے بھی اس سے بہت پیار کیا۔ماموں ( قادر کے ابا) کی کوئی چیز جو انہوں نے ابھی استعمال بھی نہیں کی ہوتی تھی اگر قادر کو پسند آجاتی تو اسی وقت ان کی کوشش ہوتی تھی کہ اسے دے دیں۔اس کی غیر موجودگی میں جب میرے سے اس کے متعلق پوچھتے تھے تو قادر کہنے کے بجائے شہزادہ کہتے تھے ممانی ( قادر کی امی) کو بھی ہمیشہ اس کی صحت کی فکر رہتی تھی۔تقریباً ہر روز ہی اسے صحت بنانے والی چیزیں بنا کر دیتی تھیں۔خوش نصیب تھا وہ جو زندگی میں اپنے ماں باپ کی نظر میں شہزادہ تھا اور موت بھی جسے شہزادے جیسی نصیب ہوئی اور بڑی نصیبوں والا تھا وہ کہ اپنی ماں کی ” جزاکم اللہ قادر“ کی دُعا لے کر رخصت ہوا۔دو