مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 289 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 289

289 اللہ تعالیٰ اس کے والدین اور بھائی بہنوں کو ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھے۔آمین نرم دل نرم دل کا تھا۔کسی کی تکلیف پر فوراً آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے۔جب میرے بھائی ( قمر سلیمان احمد ) کو گولی لگی ہے تو اس وقت ہم امریکہ میں تھے۔ایک مہینے بعد واپس آئے۔کچھ عرصہ بعد میری بھابھی اور بہن آپس میں بھائی کے گولی لگنے کا قصہ دُہرا رہی تھیں قادر ماتھے پر بازو رکھ کر لیٹا ہوا تھا۔میری بہن کی نظر پڑی تو آنسوؤں کی لڑیاں اس کی آنکھوں کے کنارے سے بہہ رہی تھیں۔مزاح طبیعت میں مزاح بھی بہت تھا۔بے ساختہ بات کرتا تھا۔اس کے بعض لطیفے تو میں یاد کر کے شاید ساری عمر ہنستی رہوں گی۔لطیفے کو Enjoy بھی بہت کرتا تھا۔میں جب بھی کوئی اچھا لطیفہ اس کی غیر موجودگی میں سنتی تھی، میری پہلی کوشش ہوتی تھی کہ قادر آئے تو اس کو سناؤں کیونکہ اس قدر دلچسپ طریقے سے ہنستا تھا کہ اس کی ہنسی پر ہی ہنسی آجاتی تھی۔اب بھی جب کوئی اچھا لطیفہ سنوں تو بڑا دل چاہتا ہے کہ کہیں سے قادر کو سنا کر اس کے قہقہے سنوں۔دوسرے جب کوئی خاص بات ہوتی تھی تو اس کے چہرے پر ایک خاص مسکراہٹ آجاتی تھی جس سے مجھے پتہ چل جاتا کہ اب تھوڑی دیر میں یہ کوئی اہم بات بتائے گا۔ایک دفعہ سحری کے وقت اس کے چہرے پر وہی خاص مسکراہٹ تھی، میں نے قادر سے کہا بتاؤ کیا اہم خواب دیکھی ہے رات کو۔تو ہنس پڑا کہ تمہیں کس طرح پتہ چلا، میں نے کہا کیونکہ تم رات کو بالکل