مرزا غلام قادر احمد — Page 287
287 وقت میں اسے احساس ہوا کہ واقف زندگی ہونے کی حیثیت سے اسے قرآن، حدیث اور عربی گرائمر کا خاص علم نہیں ہے تو اس نے درسِ قرآن کی کلاسز کہیں لگتی تھیں ان میں شمولیت اختیار کر لی اور ساتھ ہی حدیث اور عربی گرائمر کسی سے پڑھنی شروع کر دی لیکن مصروفیت کی بناء پر زیادہ عرصہ جاری نہ رکھ سکا۔بعد میں پھر MTA پر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی ترجمہ القرآن کلاس سے استفادہ کرتا رہا۔بہادر انسان تھا۔چند سال پہلے بھی اس نے بڑی جرات کا مظاہرہ کیا۔غیر از جماعت علماء کی کانفرنس کے موقع پر بہشتی مقبرہ میں ڈیوٹیاں لگیں۔قادر وہاں نگران تھا۔رات کے وقت چند غیر از جماعت اسلحہ برادرلڑکے بہشتی مقبرہ کی دیوار پھلانگ کر اندر آگئے تو یہ ان کے سامنے ڈٹ گیا اور انہیں واپس جانے پر مجبور کر دیا۔شاید اس کی یہی ادا اللہ تعالیٰ کو بھا گئی کہ اس مرتبہ بھی اسی کو چنا۔محنتی بے حد محنتی تھا۔امریکہ پڑھنے گیا تو کچھ قرضہ جماعت سے لیا اور باقی وہاں انتھک محنت کر کے اپنی فیسیں جمع کیں اور پونے تین سال میں اپنی پڑھائی مکمل کر کے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کو اطلاع کر دی۔جو کام اس کے سپرد کیا جاتا تھا اسے پورا کرنے کے لئے دن رات کا ہوش بھلا دیتا تھا جب تک اسے احسن طور پر پورا نہ کر لے۔اس نے بہت سے کام کئے لیکن سب کے سب خاموشی کے ساتھ کبھی میں نے اسے کام کا شور مچاتے یا مصروفیت کا اظہار یا رونا روتے نہیں دیکھا۔ہاں مگر اس کی مصروفیت کے نتائج اپنی بہترین صورت میں نکلتے ضرور دیکھے ہیں۔اپنے ابا کی زمینیں سنبھالیں تو ان پر اس قدر محنت کی