مرزا غلام قادر احمد — Page 246
246 نیک جذبات بعض فطرتی چیزیں بچپن میں ہی ظاہر ہو جاتی ہیں۔قادر اور اس کی بہن اوپر تلے کے تھے۔سال بھر کا فرق تھا۔پیار بھی ، لڑائی بھی تھی مجھے یاد نہیں غالباً چار سال کا تھا۔کیونکہ از حد متلاتا تھا۔بہن پانچ سال کی تھی۔اس نے کوئی چیز قادر کو دے کر واپس لے لی۔قادر میرے پاس آیا۔چہرے پر صدمہ اور حیرت بھی تھی۔کہتا امی شیمیں تو تقریباً تمینی ہے (امی سیمیں تو تقریباً کمینی ہے) اتنے چھوٹے بچے کو یہ بات نامناسب لگی۔جس کا اُسے صدمہ بھی تھا اور حیرت بھی۔کہ میری بہن نے یہ کیا کر دیا۔ناراض ہوئے تو سب واپس لے لیا کرتے ہی ہیں۔میں اب اس کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو یاد کرتی ہوں غور کرتی ہوں وہ واقعی ایک خدا پرست تھا بچپن سے ھی۔اسے کسی بہن بھائی سے مقابلہ نہیں ہوا۔کس سے زیادہ محبت کی جاتی ہے۔کس کو زیادہ دیا لیا جاتا ہے۔میرا بڑا بیٹا پیدائش سے دوسرے مہینے ہی ایگزیما سے بھر گیا۔تین چار ماہ کی عمر میں صرف ہونٹ اور آنکھیں بچی تھیں۔باقی جسم بھی چہرہ سب ایگزیما سے بھرا تھا۔ایک پہلا بیٹا پھر تکلیف دہ بیماری اور بے حد صابر۔غرضیکہ کئی وجوہات کی بنا پر وہ ہمیں بہت ہی پیارا ہے اور ہمیشہ نمبر ایک رہا غرضیکہ بڑے بیٹے سے نمایاں سلوک تھا۔مگر میں قادر کی زندگی میں بھی غور کرتی تھی کہ اس نے یہ بات کبھی محسوس نہیں کی ، کبھی یہ احساس نہیں دلایا کہ زیادہ عزیز بھی وہی ہے تو فرائض بھی اس کے زیادہ ہیں۔بلکہ خود بھی اس سے اس کے بچوں سے پیار کرتا تھا۔بہن بھائیوں میں بعض دفعہ بلکہ اکثر مقابلہ ہوجاتا۔مگر یہ چیزیں اس میں ذرا نہیں تھی۔