مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 247 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 247

247 اس کے والد لندن گئے تو تین سال کا تھا۔ان سے بے حد مانوس تھا۔ایئر پورٹ پر اس طرح بلک بلک کر رو رہا تھا۔تتلا تو تھا ہی جہاز اُڑا تو ہاتھ اُوپر اُٹھائے ہوئے تھے میں شاتھ جاؤندا میں شاتھ جاؤندا (میں ساتھ جاؤں گا) کہہ رہا تھا۔اور رو رہا تھا۔میری بہن ساتھ تھی وہ کہتی اتنا خوبصورت بیٹا چھوڑ کر کبھی نہ جاتی۔مگر آج ہم رو ر ہے تھے وہ ہمیں چھوڑ کر جا رہا تھا۔ہمارے دل سے بے اختیار آوازیں نکل رہی تھیں۔ہم ساتھ جائیں گے۔ہم ساتھ جائیں گے۔ہر کوئی مجبور ہے حکم خدا کے سامنے۔قادر کا بڑا بیٹا سات سال کا ہے۔کہتا ہے دادی یہ کیسے ہوتا ہے کہ جوان شہید ہو جاتے ہیں بڑے نہیں ہوتے۔میں کبھی نہیں۔میں نے کہا۔بچے تمہارا کیا مطلب ہے؟ کہتا جس طرح بابا شہید ہو گئے۔آپ نہیں ہوئیں۔میں نے کہا بیٹے اگر خدا چوائس دیتا تو میں ایک دفعہ نہیں۔بابا کے بدلے سو دفعہ شہید ہو جاتی مگر خدا کی یہ مرضی تھی کہ بابا کو یہ رتبہ دے۔قادر کے بعد نماز میں اس دُکھ کی حالت میں الحمد پڑھی تو مجھے لگا کہ آج حقیقتاً مجھے احساس ہوا ہے کہ خدا کس لئے ماں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔عزیز ترین چیز چھن جانے پر بھی بندہ یہی کہتا ہے الحمد للہ اس وقت یقیناً خدا اپنے بندے پر ماں جیسی پیار بھری نظر ڈالتا ہو گا۔خاموش طبیعت قادر کو ہمیشہ سے سب کچھ خاموشی سے کرنے کی عادت تھی اتنی شاندار کامیابیوں پر اس نے کبھی پہلے سے سبز باغ نہیں دکھائے تھے کہ میں اتنے نمبر لے لوں گا اسی طرح مجھے یا کسی کو اپنے وقف کے ارادے کا نہیں