مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 198 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 198

198 دیر ہو جاتی تو کسی بھی کارکن سے سائیکل مستعار لے کر روانہ ہو جاتے تھے۔اگر کبھی کوئی کارکن دفتر دیر سے آتا تو معمولی طور پر اخلاق سے اُس سے پوچھتے اور کبھی بھی کسی کو بے عزت نہیں کرتے تھے۔کسی بھی کارکن کو ذاتی کام کے لئے چھٹی چاہئے ہوتی تو آپ کبھی رُکاوٹ نہ ڈالتے آپ نے ایک کاپی بنا کر دی تھی جس پر ہر باہر جانے والا ، جانے اور آنے کا وقت نوٹ کرتا تھا۔گو کہ آپ اس کاپی کو با قاعدہ چیک نہیں کرتے تھے۔لیکن پھر بھی آپ کو اس بات کا احساس ہو جاتا تھا کہ کون شخص زیادہ باہر جاتا ہے لیکن کبھی آپ نے سرزنش نہ کی۔دوسروں کی عزت نفس کا بے حد خیال رکھنے والے تھے بعض اوقات اگر شور ہو رہا ہوتا تو صرف دیکھ کر واپس چلے جاتے گویا ہمیں خود احساس ہو جائے یا پھر ہلکا سا کبھی کہہ دیتے کہ شور ہو رہا ہے اگر محسوس کرتے کہ کوئی دوست یا مہمان وغیرہ آئے ہوئے ہیں اور شور اس وجہ سے ہے تو انکساری کا یہ عالم تھا کہ بعض اوقات ناراض ہوئے بغیر خود اپنا دروازہ بند کر لیتے۔بے حد نفاست پسند تھے لیکن اسراف سے بچتے ہوئے سجاوٹ کے پہلو کو مد نظر رکھتے تھے کوئی بھی دفتری چیز خریدنے کے معاملے میں معیار کو پیش نظر رکھتے تھے اور مکمل چھان بین کے بعد اُس شخص یا پارٹی سے خریدتے۔جس سے خرابی کی صورت میں واپس یا Repair کروائی جا سکے۔دفتری پراپرٹی کی انتہائی دیکھ بھال کرتے تھے۔دفتر کی کوئی بھی چیز ذاتی استعمال میں نہ لاتے تھے۔بلکہ دفتر کے کاموں کے لئے اپنی ذاتی گاڑی استعمال کر لیا کرتے تھے۔اگر کبھی کبھار کوئی ہلکا سا بخار وغیرہ ہوتا تو دفتر چھٹی لینے کے باوجود ذرا سی طبیعت سنبھلنے پر دفتر آ جاتے۔سیر و تفریح کے دلدادہ تھے۔اس لئے بعض اوقات آٹھ دس روز کی چھٹی لے کر اپنی فیملی یا دوستوں وغیرہ کے ساتھ شمالی علاقہ جات کی سیر کے لئے چلے جاتے۔کارکنان ނ