مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 134 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 134

134 تھی کہ بچے زندگی وقف کریں۔لیکن اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے اصرار نہیں کیا۔کہ تم لازماً وقف کرو۔قادر نے اپنی مرضی سے وقف کیا۔آپ فرماتی ہیں: قادر کے وقف سے مجھے وہ خوشی میسر آئی کہ سات بادشاہتیں بھی مل جاتیں تب بھی نہ ملتی۔وقف کی صورت میں میری دُعاؤں کا ثمر مجھے مل گیا۔“ اپنی اولاد کے وقف کی توفیق پانے کی دُعائیں کتنی مبارک دُعائیں ہیں اور کس قدر پیار سے مولا کریم ان کو شرف قبولیت عطا فرماتا ہے۔سب اولاد والوں کے لئے ایک مثال ہے۔عام گھریلو ماحول کا ایک عام سا واقعہ ہے۔مگر سوچا جائے تو کتنا خاص ہے۔بیٹا صبح اُٹھ کر اپنی ماں کو رات کا خواب سُنا تا ہے اور ماں تعبیر بیان کرتی ہیں۔دونوں ہی مخصوص روحانی فضا میں پہلے ہوئے ہیں۔دونوں کے دلوں کے نہاں خانے میں اللہ تعالیٰ کی محبت کا سمندر لہریں لے رہا ہے۔قادر نے خواب میں حضرت اقدس مسیح موعود کو دیکھا آپ نے پوچھا! تم کس کے بیٹے ہو؟“ جواب دیا! قدسیہ کا“ ماں نے خواب سن کر کہا: وو قادر تم نے میرا نام اس لئے لیا ہے کیونکہ میں نے تمہارے وقف اور خادمِ دین ہونے کے لئے بے حد دعائیں کی ہیں۔“ جس ماں کے دل میں بچے کے وقف زندگی کا ایسا جوش و ولولہ ہو وہ اُس کی تربیت بھی ایسے رنگ میں کرتی ہے کہ اُس کی تمنائیں اُس کے دودھ ، کے ساتھ بچے میں منتقل ہو جائیں۔ایک پیج کی طرح پرورش پائیں۔وقت پہ