مرزا غلام قادر احمد — Page 117
117 Senior prefect بنانا بالفاظ دیگر اُس کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف تھا۔اسکول کے زمانے کا دلچسپ واقعہ : قادر کی امی جان نے بتایا کہ ایک دفعہ چھٹیوں میں گھر آیا تو مجھے ایک شار پنر (Sharpner) دکھایا کہ میں نے جنرل اسٹور سے کچھ چیزیں لی تھیں۔یہ شار پنر میری چیزوں کے ساتھ آ گیا ہے مگر اس کی قیمت بل میں نہیں لگی۔اُس وقت کوئی بارہ یا تیرہ سال کا ہو گا اور شار پنر کی قیمت شاید آٹھ آنے ہو۔مگر اس کے دل میں اس چھوٹی عمر میں بھی کھٹک تھی۔حالانکہ قصور اس کا نہ تھا دکاندار کی غلطی تھی۔میں نے کہا کہ سنبھال کر رکھ لو جب جاؤ گے اُسے واپس کر دینا یا قیمت ادا کر دینا۔سچائی اور جرات کی مثال: ایک دفعہ کسی ٹیسٹ کے دوران اُستاد کو شک گزرا کہ ایک طالب علم نقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔اسکول کے قوانین اس معاملہ میں بہت سخت تھے۔نقل کی اسکول سے نکال دینے کی حد تک سزا ملتی تھی۔اُستاد نے اپنے شک کی دیگر طلباء سے تصدیق کرنا چاہی مگر غالباً اس طالب علم کے کسی بڑی فیملی سے متعلق ہونے کی وجہ سے طلباء نے سچ بتانے سے گریز کیا۔قادر کچھ دیر تو خاموش رہے مگر جب کسی نے سچ کہنے کی جرات نہ کی تو دلیری سے اُٹھ کر ٹیچر کو بتایا کہ ہاں میں نے دیکھا ہے یہ نقل کر رہا تھا۔میٹرک میں شاندار کامیابی ایف ایس سی میں بورڈ میں پوزیشن: قادر کا شمار ان بیٹوں میں ہوتا تھا کہ جن پر والدین ہمیشہ ناز کریں