مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 118 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 118

118 قادر نے اپریل 1978ء میں ایبٹ آباد پبلک اسکول سے جو بورڈ آف انٹرمیڈیٹ پشاور کے تحت تھا رول نمبر 33540 کے تحت سولہ سال کی عمر میں میٹرک کا امتحان سائنس کے مضامین کے ساتھ 850 نمبروں میں سے 711 امتیازی نمبر لے کر A گریڈ کے ساتھ پاس کیا۔یہ کوئی اتفاق نہ تھا بلکہ اس کے پیچھے والدین کی راتوں کی دُعائیں، اساتذہ کی محنت شاقہ اور قادر صاحب کی جہد مسلسل کار فرما تھی اور یہ آگے سے آگے نکلنے کی جستجو ہی تھی کہ ایک بار پھر 1980ء میں اسی اسکول اور اسی بورڈ سے ایف ایس سی کے امتحان میں رول نمبر 8095 کے تحت اٹھارہ سال کی عمر میں Pre-Engineering کے مضامین کے ساتھ 1000 میں سے 751 نمبر لے کر نہ صرف یہ کہ دوبارہ A گریڈ حاصل کیا بلکہ سب پر سبقت لے جاتے ہوئے پشاور بورڈ میں اوّل پوزیشن حاصل کی۔یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان تھا والدین کی تربیت اور حوصلہ افزائی تھی۔اپنے بہن بھائی سے آگے بڑھنے کی ترغیب تھی۔قادر بفضل الہی والدین کی توقعات پر پورے اترے اور سب سے آگے بڑھ گئے۔فائنل نتیجہ سننے کا واقعہ بڑا ہی دلچسپ ہے۔خاموشی سے ریڈیو پشاور لگا کر نتیجے کے اعلان کا انتظار کرتے۔دو پہر کی خبروں میں سُن لیا کہ مرزا غلام قادر نے سارے بورڈ میں ٹاپ کیا ہے۔لاہور میں تھے وہاں خالائیں تھیں اور بہت سے ہم عمر بچے بھی مگر طبیعت میں اتنا عجز و انکسار تھا کہ کسی کو بتایا ہی نہیں۔شام کی خبروں سے پہلے خالہ کو جا کر آہستہ سے بتایا کہ نتیجہ آ گیا ہے اور ریڈیو میں میرا نام بھی آیا ہے۔خالہ نے خبریں سنیں تو خوشی کی انتہا نہ رہی فوراً فون کر کے بہن کو یہ قابلِ صد ستائش خوشخبری سنائی۔نوائے وقت راولپنڈی مورخہ 9رستمبر 1980 ء میں قادر کی تصویر کے ساتھ یہ خبر