مرزا غلام قادر احمد — Page 89
89 امی کو شکایت لگائی جو جملہ کہا وہ تتلا ہٹ کی وجہ سے سب کو یاد رہا۔دامی تیمیں تو تقریبا تمینی ہے امی سیمی تو تقریبا کمینی ہے۔بے ساختگی میں ایسی بات کہی جس میں سارا غصہ اور صدمہ شامل تھا۔بچے تو آپس میں لڑا ہی کرتے ہیں۔کبھی مہربان ہوئے تو سب کچھ دے دیا اور کبھی ناراض ہوئے تو واپس لے لیا۔گھر میں پیارے سے اسے سرکا کہا جاتا اور یہ نام اتنا مشہور ہوا کہ اصل نام کوئی کم ہی لیتا۔تتلا ہٹ کا ایک اور مزے دار واقعہ ہے۔قادر کے ابا افریقہ گئے تو چونکہ بچہ ابا سے بہت مانوس تھا ہر وقت پوچھتا رہتا کہ ابا کب آئیں گے۔امی جواب دیتیں کہ ایک سال کے لئے گئے ہیں۔یہ ایک شال ننھے سے ذہن پر نقش ہو گیا وہ اپنے ابا کو خط لکھواتا۔ایک شال آپ کب آئیں دے۔ایک شال میرے لئے بیٹ لانا۔ایک شال موٹر سائیکل لانا۔006 اسی طرح وہ سب کو بتاتا کہ ابا ایک شال بعد آئیں گے۔قادر ضد کرنے اور لڑنے جھگڑنے والا بچہ نہیں تھا۔نہ وہ بہن بھائیوں سے حسد جلن رکھتا بلکہ صابر اور شاکر بچہ تھا اور اکثر خاموش رہتا۔اس کا بھائی پیدائش کے دوسرے مہینے ہی ایگزیما سے بھر گیا تھا۔تین چار ماہ کی عمر میں تو یہ حال ہو گیا تھا کہ صرف ہونٹ اور آنکھیں بچی تھیں باقی جسم، سارا چہرہ اگزیما سے بھر گیا تھا۔ایک تو پہلا بیٹا پھر تکلیف دہ بیماری، بہت توجہ لیتا تھا۔ایک طرح پہلے بیٹے سے نمایاں سلوک ہوتا تھا مگر قادر نے کبھی محسوس نہیں کیا۔خوش باش، ہنس مکھ ، شرمیلا سا بچہ تھا۔مسکراہٹ ایسی حسین جو سب کا دل موہ لے۔شوخی شرارت بھی کرتا تو ایسی نہیں جس سے ضرر اور