مرزا غلام قادر احمد — Page 382
382 {2} گلشن احمد معطر ہو گیا پھول مہکا اور سرور ہو گیا چاند کا ٹکڑا جو اُترا لحد میں کا ہر ذرہ منور ہو گیا آسماں تیری قسم زندہ ہے وہ خون میں اپنے ہی جو تر ہو گیا دیکھ کر اک ابن فارس کا شعور شوق قربانی کا گھر گھر ہو گیا ہر طرف عشاق کے ہیں قافلے چرچا ہر سو بندہ پرور ہو گیا چڑھ گئے نالے بہاؤ تیز ہے اب تو ہر سجدہ ہی محشر ہو گیا رہے چل کے وحشیوں کے درمیاں شہر میں رہنا تو دوبھر ہو گیا یوں جیا ایسے مرا طاہر کہ وہ شہسواروں میں وہ افسر ہو گیا طاہر عارف الفضل 17 مئی 1999ء) وہ مثلِ موج آپ رواں یوں گزر گیا اک عکس پانیوں پر ہمیشہ ٹھہر گیا تھا شام کی منڈیر پہ جلتا ہوا چراغ تاریک راستوں میں برنگ سحر گیا ست صبا پہ پھول کی صورت کھلا ہوا پھر دفعتاً وہ پھول سر رہ بکھر گیا ہ نکلا دیارِ شوق سے اس خامشی کے ساتھ شہر خیال و خواب کو سُنسان کر گیا پھیلی ہوئی ہے دھندسی حدِ نگاہ تک اب وہ سبک خرام نہ جانے کدھر گیا