مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 383 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 383

383 اک نفسِ مطمئن لئے ، اپنے لہو میں تر قادر کا وہ غلام تھا قادر کے گھر گیا اس کے لئے بھی دوستو کوئی دعائے صبر شخص کا نور نظر گیا جس دل اکرم محمود شکن (الفضل 19 اپریل 1999ء) {1} کابل کے شہر میں ہے سنا اک شہید تھا اللہ کے ایک بھیجے ہوئے کا مرید تھا آیا ہے چل کے اس کے نقوشِ قدم پہ جو خونِ مسیح وقت کی پہلی رسید تھا پھر کر بلا کی یاؤ سے بس کچھ ہی روز قبل یہ خوں بہانے والا بھی تو اک یزید تھا بتلا دیا خدا نے مسیح الزماں کو یہ ” آیا مرا غلام جو حق کی نوید تھا قادر تو ہیں بہت سے زمانے میں ہر طرف قادر وہی تھا ایک جو ابن مجید تھا پھیلا ہوا تھا ہر طرف جو عطر خون کا عرق گل گلاب کی وہ اک کشید تھا نذرانہ جس نے پیش کیا اپنی جان کا ” قادر کا وہ غلام تھا“ اور زر خرید تھا کیسے بتاؤں مجھ کو خوشی تھی کہ غم نبیل وو وہ روز، روز حشر تھا کہ روز عید تھا {2} لہرا رہا ہے ہر طرف تیرا نشانِ خاص تیرے لہو میں ڈھل گیا ہے آسمانِ خاص