مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 369 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 369

369 عشق کی سلطنت قادر کی ہے عشق کل تھا نہ آج کانٹوں کا اس گل منتخب کے کھلتے ہی بڑھ گیا احتجاج کانٹوں کا سب ادا کر دیا ہے قادر نے جس قدر تھا خراج کانٹوں کا اپنی سچائی کی گواہی دی پہن کر اس نے تاج کانٹوں کا اک طرف پھول کی روایت ہے اک طرف ہے رواج کانٹوں کا اک طرف مملکت ہے پھولوں کی اک طرف سامراج کانٹوں کا درمیاں میں کھڑی ہے خلق خدا ہیں اور احتجاج کانٹوں کا اپنے انجام کی اذیت سے بے خبر ہے سماج کانٹوں کا کوئی صورت نظر نہیں آتی ہے مرض لاعلاج کانٹوں کا آسماں سے اُتر مرے مالک اب زمیں پر ہے راج کانٹوں کا قتل ناحق سے پھول کے مضطر چوہدری محمد علی ہل گیا تخت و تاج کانٹوں کا (روز نامہ الفضل ربوہ 21 رمئی 1999ء) {1} ظلم کی انتہاء بھی ہے کوئی؟ ظالموں کا خدا بھی ہے کوئی؟ اس مرض سے شفا بھی ہے کوئی دردِ دل کی دوا بھی ہے کوئی؟ خوں خرابے سے بھر گئی دھرتی قاتلوں کی سزا بھی ہے کوئی؟ جوان شہزادہ کونسا وہ جیا بھی ہے کوئی؟ ہائے وہ