مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 370 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 370

370 دور تک دیکھو اس شجاعت سے ایسے لڑ کر مرا بھی ہے کوئی؟ زندگی وقف اور شہادت موت اس سے بڑھ کر وفا بھی ہے کوئی؟ آج تک ہے یزیدیت باقی حاصل کربلا بھی ہے کوئی؟ دین اسلام تو ہے امن کا دیں قوم کا پیشوا بھی ہے کوئی؟ جب سے ٹوٹی ہے عدل کی میزان عادل ان میں ہوا بھی ہے کوئی؟ رب کی رحمت سہارا ہے ورنہ باپ ماں کا عصا بھی ہے کوئی؟ وارثان شہید کا حافظ ! میرا مولیٰ مرا خدا حافظ ! (الفضل 15 اپریل 1999ء) {2} لاکھ ہوں تالے لب اظہار پر پھر بھی ہم قادر ہیں ہر ہر گفتار پر گھولتا بھی بولتا بھی ہے یہ خوں اور بکھر جاتا ہے ہر اخبار پر ہم نہیں غازی فقط گفتار کے ہے گواہی خون کی کردار پر اک لپک میں قید سے باہر تھا وہ اک جھپک میں آگیا پیکار پر اک نہتا شیر ربوہ اور وہ چار بھاگ نکلے شیر کی للکار پر خنجروں کے زخم اور گولی کے زخم کھا کے جا بیٹھا وہ اپنی کار موت کا پیچھا کیا چنیوٹ تک لوگ حیراں ہیں تیری یلغار پر