مرزا غلام قادر احمد — Page 368
368 کیا شہادت گاہِ ربوہ بن گئی کوئے جناں کس نے اپنے خون سے لکھ دی وفا کی داستاں بھر گیا ہے رحمت باری سے دامانِ چمن مبتلا ہیں کس کے غم میں سینہ چاکانِ چمن ساز دل چپ ہے کوئی نغمہ اُبھر سکتا نہیں اور راحت کو ہم آہنگ کر سکتا نہیں کوچہ جاناں میں مرجانا بھی ہے تسکینِ جاں یہ شہادت تو خدا کی دین ہے جانِ تپاں ہائے وہ منظر تھا، پارہ پارہ جس سے دل غریب رہ رہا تھا دور افتادہ کوئی ہجراں نصیب شهید غلام قادر احمد زندہ باد زنده و رخشنده و تابنده و پائندہ باد عبدالمنان ناہید مشتعل ہے مزاج کانٹوں کا کیجئے کچھ علاج کانٹوں کا آبلوں سے بہت پرانا ہے رشته ازدواج کانٹوں کا خون تو خون ہے بہر صورت اشک بھی ہے اناج کانٹوں کا