مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 367 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 367

367 مُردہ نہ کہو اس کو وہ ہے زندہ جاوید ہے جنت فردوس جہاں ہے مرا مرزا آقا کی نگاہوں میں جو روشن تھا ستارہ اب ان کی بھی نظروں سے نہاں ہے مرا مرزا نام اس کا درخشنده ہے اب لوح جہاں پر اللہ کی رحمت کا نشاں ہے مرا مرزا آقا کی طرح میں بھی ہوں بے چین سلیم آج سلیم شاہجہانپوری ڈھونڈ کے لے آؤ جہاں ہے مرا مرزا (الفضل ورجون 1999ء) کچھ غم نہیں گر لائق تعزیر ہوا ہے دل، جس سے قلعہ عشق کا تسخیر ہوا ہے سینچا ہے شہیدوں نے لہو دے کے چمن کو ہر قصر وفا ایسے ہی تعمیر ہوا ہے سر کر لیا ہر معرکہ ہمت کے دھنی نے جو پست ہے وہ شاکی تقدیر ہوا ہے مٹی میں تڑپتا ہے پڑا سبط پیمبر کس خون سے تر سینہ شمشیر ہوا ہے ہر نقش حسیں اُبھرا ہے اُلفت کے قلم سے کس کس کا لہو شوخی تصویر ہوا ہے بے فائدہ کرتے ہیں نصیر آپ تردد کب یہ دل وحشی تہ زنجیر ہوا ہے پروفیسر نصیر احمد خان صاحب الفضل 17 اگست 1999ء)