مرزا غلام قادر احمد — Page 344
344 آیا اور کہنے لگا کہ بہت سخت سردی ہے تم بیمار ہو جاؤ گے یہ ٹوپی پہن لو۔قادر نمائندہ تحریک جدید بن کے 1993ء میں جلسہ سالانہ کے موقعہ پر لنڈن گیا مجھے اس سال لندن جانے کا اتفاق ہوا۔43 نمبر گیسٹ ہاؤس میں ہم لوگ تقریباً دو ماہ اکٹھے رہے۔لنڈن میں ہم بولتے تھے اور قادر ہماری باتیں سن کے صرف ہنستا اور مسکراتا رہتا تھا اور اکثر حیرت سے اچھا “ اور ”نہیں“ کے الفاظ بولا کرتا تھا اور ہنستا اس طرح تھا کہ ساتھ والا شخص دوبارہ ہنسنے پر مجبور ہو جاتا۔ایک دن حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ہم سب کو ایک ڈبہ چاکلیٹ کا بھجوایا قادر کا حصہ میں نے اسے دیا تو اس نے وہ چاکلیٹ رکھ لیا اور کہنے لگا کہ واپس جا کر نچھو ( قادر کی بیگم ) اور بچوں کے ساتھ کھاؤں گا۔چند ماہ قبل نرسری میں پھولوں کی نمائش لگی تھی۔قادر اپنی بیگم اور بچوں اور ابا امی کے ساتھ نمائش میں آیا اور رات کا کھانا وہیں کھایا۔کھانے کے بعد مسکراتا ہوا میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اور نچھو نے چائے لینی ہے اور ساتھ ہی ہنستے ہوئے کہا کہ ” پیسے دوں گا“ ان دونوں نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ نرسری میں گزارا۔اگلے دن قادر وغیره دوباره نمائش دیکھنے آئے دُور سے قادر کی مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ قادر کوئی کام کہنے والا ہے۔میرے قریب آ کے نہایت عاجزی سے کہنے لگا۔” چائے مل سکتی ہے؟ ہم کھانا تو کھا کے آئے ہیں۔لیکن کوئی کراری سی چیز کھلاؤ“۔نرسری کے کارنر میں دونوں میاں بیوی جب چائے پی کر فارغ ہوئے تو میں برتن اُٹھانے کے لئے گیا۔قادر اور نچھو دونوں نے مجھے برتن اٹھانے