مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 245 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 245

245 اپنے عزیز آنے شروع ہوئے حضرت صاحب کا فون آیا۔میں نے کہا میرا بیٹا چلا گیا۔آپ نے فرمایا وہ تمہارا ہی نہیں میرا بھی بیٹا تھا۔آپ کی آواز بھرا رہی تھی آپ نے فرمایا بھائی موجی کا خیال رکھنا، تم برداشت کر لو گی مگر بھائی موجی کا دل کمزور ہے ان کو سنبھالنا۔یہ تو مجھے پتہ ہے میرا دل کتنا مضبوط ہے غم اور حقیقتیں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔مجھے اس وقت بھی اپنا غم بھولا ہوا تھا بچوں کا خیال آرہا تھا۔حقیقتیں سامنے آرہی تھیں۔چینوٹ سے واپس آتے ہوئے میں نے فیصلہ کیا۔قادر میرا زندہ بچہ تصور ہو گا۔وہ میری اور باپ کی جائیداد کا وارث ہو گا اب بھی اور آئندہ بھی جو کچھ خدا ہمیں دے گا۔میں مجھتی ہوں کہ یہ ماں باپ اور بہن بھائیوں کی آزمائش کے لئے خدا نے رکھا ہے کہ باپ کی زندگی میں بیٹا فوت ہو جائے تو وارث نہیں۔خدا بڑا رحیم و کریم ہے وہ یتیموں کو کیسے چھوڑ سکتا ہے۔وہ یتیم نفس کبھی مجروح ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔یہ صرف پیچھے رہنے والوں کی آزمائش ہے کہ کتنا ظرف رکھتے ہیں۔میری تو برداشت سے باہر تھا قادر کے بچے کسی کا منہ دیکھیں۔رحم کے منتظر ہوں۔میں نے ان کو کہا زندگی کا کچھ پتہ نہیں دوسرے تیسرے دن ہی سب بہن بھائیوں کو یہ فیصلہ سنا دیا میرے بچوں نے انتہائی خوشی سے یہ فیصلہ مانا۔ویسے جو دُعائیں دل کی گہرائی سے اس کے بچوں کے لئے نکل رہی ہیں۔وہ اس جائیداد سے کہیں زیادہ ہیں۔جس کا تصور بھی کوئی نہیں کر سکتا۔میرا بس نہیں چلتا کہ میں کیا کچھ ان کو دے دوں۔میں تو خدا سے کہتی ہوں میں ماں ہوں۔ایک بے بس ماں، جس کی پہنچ میں کچھ بھی نہیں ہے۔تو ایک طاقتور ماں ہے کامل قدرتوں والی ماں، تیرے گن کہنے کی دیر ہے۔میں تو صرف مانگ سکتی ہوں۔دینا تیرے اختیار میں ہے میں نے اپنے ظرف کے مطابق مانگا ہے۔مگر میرے خدا تو اُن کو اپنے ظرف کے مطابق دینا۔۔