مرزا غلام قادر احمد — Page 240
240 قادر نے جب پشاور بورڈ میں ٹاپ کیا تو لاہور میں تھا اس نے ریڈیو پر اپنا نام سُنا کہ مرزا غلام قادر نے ٹاپ کیا ہے سارے بورڈ میں دو پہر کی خبروں میں آیا۔اس نے کسی کو نہیں بتایا۔اپنی خالہ کے ہم عمر بیٹے ، خالائیں سب وہاں تھیں۔شام کی خبروں میں پھر آیا۔تب بھی اتنی مسکینی سے خالہ کے پاس گیا کہ میرا نام آ رہا ہے کہ ٹاپ کیا ہے انہوں نے مجھے فون کیا ظاہر ہے میری خوشی کا کیا ٹھکانہ۔رحم بھی آئے کہ اتنی بڑی خوشی دل میں چھپائے پھر رہا ہے۔مگر یہ اس کی خاموشی کی عادت اور انکساری تھی کہ اتنی بڑی خوشی پر بھی یہ فخر نہیں کر رہا تھا۔امی نے مجھے بتایا کہ جب میں پیدا ہونے والی تھی۔تو چوتھی بیٹی تھی شدید خواہش بیٹے کی تھی بہت دُعائیں نو مہینے کیں کہ بیٹا پیدا ہو۔مگر بیٹی پیدا ہوئی سخت صدمہ تھا۔اس صدمے کی کیفیت میں امی نے بتایا کہ مجھے آواز آئی ( مجھے آواز آئی کے الفاظ ہی یاد ہیں)۔اور خدا نے تسلی دی تھی کہ بیٹا نہیں ہوا مگر اس بیٹی کے ذریعہ خدا ایک ہمہ تن موصوف بیٹا دے گا۔دُعائیں ضائع نہیں ہوئیں۔اسی طرح امی کو شاید اپنی وفات کا پتہ لگ گیا تھا کہ قریب ہے میں پاس تھی امی نے اپنا قرآن منگوایا مجھے کہا فلاں آیات نکالو وہ سورۃ مریم کی مبارک آیات تھیں۔امی نے کہا تمہاری پیدائش سے پہلے مجھے یہ آواز آئی تھی۔میں نے اسی قرآن میں ان آیات پر نشان لگا دیے جو میرے پاس محفوظ ہے وہ بھی ایک بشارت تھی۔خدا آئندہ بھی میری اولاد در اولاد پوری کرتا رہے آمین۔سوچتی ہوں اگر کسی کو نہایت ہمدردی سے کوئی دُعا دوں تو یہ دُعا دوں گی خدا تمہیں میرے جیسے بیٹے دے۔ایسے بیٹے تو دُنیا میں ماں کی گود میں آیا خدا کا سب سے خوبصورت تحفہ ہیں۔