مرزا غلام قادر احمد — Page 231
231 محترمہ صاحبزادی قدسیہ بیگم ( والدہ صاحبزادہ ): بہترین زندگی - بہترین موت میرے بچے زندہ باد میرا پیارا قادر۔میرا فخر دیار بیٹا، میری دُعاؤں کا ثمر، جو کچا توڑا گیا، مگر پکے ہوئے ثمر سے زیادہ شیریں نکلا۔میری حالت اس وقت ایسی نہیں کہ میں کچھ زیادہ لکھوں۔مگر یہ کہوں گی کہ ایک دیندار ماں جو اپنے بیٹے کے لئے مانگ سکتی ہے اس نے وہ سب کچھ مجھے دیا۔وہ ماں باپ کا بہترین خدمت گزار، اطاعت گزار تھا۔سب سے بڑی بات جس کی میں نے اس کی پیدائش سے بھی پہلے تمنا کی تھی وہ بہترین خادمِ دین تھا میرے بیٹے کا ایک ایک منٹ دین کی اور ماں باپ کی خدمت میں گزرا اگر کہوں تو مبالغہ نہ ہوگا۔وہ اپنے بچوں کو خاطر خواہ وقت نہ دے سکتا تھا۔اس کا طریق اس نے یہ سوچا کہ ایک وقت میں کئی کام ہو جائیں وہ اکثر اپنے بیوی بچوں کو زمین پر بھی اپنے ساتھ لے جاتا تھا۔زمین کی نگرانی بھی ہو جاتی اور بچے اپنے باپ کی قربت بھی پا لیتے۔خدا نے مجھے صبر دیا ہے۔یہ تسلی ہے کہ اس نے بہترین زندگی گزاری اور بہترین موت پائی۔لیکن بچوں کو دیکھ کر دل پھٹتا ہے جو معصوم اس کی شہادت اور بہترین موت کا سوچ کر تسلی نہیں پاسکتے۔کل اس کے اڑھائی سالہ بیٹے نے شیشے میں قادر کی تصویر کا عکس دیکھا اور خوشی سے چلایا۔دادی بابا آ گئے۔میری آنکھوں میں دُھند چھا گئی۔اسے اُٹھایا پیار کیا۔بچے کی خوشی قابل دید تھی۔میں نے دل میں کہا بیٹے ! اب خدا تمہارا بابا ہے اور یہ بابا کبھی نہیں مرے گا۔