مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 220 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 220

220 مجھے بلایا اور پوچھا کہ کیا آپ نے ان سے دو ٹیو میں منگوائی تھیں؟ میں نے جواباً اثبات میں سر ہلایا تو آپ کہنے لگے کہ انہیں ٹیوبیں واپس کر دیں۔میں نے کہا کہ میاں صاحب ٹیوبیں تو اور بھی بہت سی ادھر اُدھر سے منگوائی گئی ہیں جو دریا پہ کچھ کسی کشتی میں اور کچھ کسی میں پڑی ہیں۔آدھی رات کا وقت ہے مجھے تو یاد بھی نہیں کہ ان کی ٹیوبیں کونسی جگہ پڑی ہوئی ہیں۔اس لئے صبح کو ڈھونڈ کر انہیں پہنچا دوں گا۔کہنے لگے جن کی چیز ہے انہوں نے مانگی ہے اس لئے اُصولاً ہمیں ضرور لوٹانی چاہیے۔آپ ابھی جائیں اور ان کی ٹیوبیں ان کو پہنچا کے آئیں۔میں اطاعت کرتے ہوئے دفتر مقامی سے نکل آیا باہر کھڑی اپنی موٹر سائیکل موڑ دی ابھی چوک اقصیٰ کے قریب ہی پہنچا تھا کہ موٹر سائیکل کی لائٹ پڑنے پر سامنے سے ایک شخص آتا دکھائی دیا۔وہ قریب پہنچا تو میں نے دیکھا کہ وہ دُکاندار بوٹا صاحب ہیں کہ جن کی چوک اقصیٰ ہی میں سائیکل اور موٹر سائیکل کے پنکچر لگانے کی دکان ہے۔میں بہت حیران ہوا کہ تقریباً رات ایک بجے یہ شخص کہاں سے فرشتہ بن کر چلا آرہا ہے۔روک کر سلام کیا اور پوچھا تو کہنے لگا کہ کوئی عزیز بیمار ہے اس کی طرف جارہا ہوں۔بوٹا صاحب سے میری اچھی علیک سلیک تھی اس لئے میں نے کہا کیا اس وقت تمہارے پاس دُکان کی چابیاں ہیں؟ خوبی قسمت سے چابیاں اس کے پاس موجود تھیں۔میں نے درخواست کی کہ براہ کرم دُکان سے اسی وقت دو عدد ٹیوبیں ہوا بھر کے دے دو تو تمہاری بے حد مہربانی ہوگی۔اس نے میری درخواست پر دُکان کھول کے ٹیوبیں مجھے دے دیں اور میں نے اُسی وقت مطلوبہ جگہ پہنچا دیں۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ واضح تائید خداوندی ہی تھی کہ جس نے ایسے موقع پر مدد اس رنگ میں کی کہ جس کے دُور دُور تک کوئی آثار نہ تھے اس واقعہ سے میاں قادر صاحب کی اُصول پسندی بھی واضح ہوتی ہے کہ